حیدرآباد ۔ 4 ۔ فروری(سیاست نیوز) وقف بورڈ میں ورک کلچر کے آغاز اور عہدیداروں نے ذمہ داری اور جوابدہی کا احساس پیدا کرنے کیلئے شروع کی گئی مساعی کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے جائزہ حاصل کرنے کے بعد جناب جلال الدین اکبر آئی ایف ایس میں وقف بورڈ کی کارکردگی کو بنیادی سطح سے بہتر بنانے کی کوششوں کا آغاز کیا تھا ۔ پہلی کڑی کے طور پر انہوں نے نظم و نسق کے ماہرین کے ذریعہ وقف بورڈ کے عہدیداروں و ملازمین کیلئے ٹریننگ کلاسس کا اہتمام کیا جس میں فائلوں کی یکسوئی اور عوامی شکایات کی وصولی پر کارروائی کے طریقہ کار کے سلسلہ میں رہنمائی کی گئی تھی ۔ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران مختلف اصلاحات کے نتیجہ میں وقف بورڈ کی کارکردگی میں سدھار دیکھا جارہا ہے ۔ اگرچہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور صیانت کے سلسلہ میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں دیکھی گئی ۔ تاہم دفتری کام کاج میں بہتری آئی ہے۔
جناب جلال الدین اکبر نے گزشتہ دو دن تک مختلف سیکشنوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے سرگرم مشاورتی اجلاس منعقد کئے ۔ کل اور آج دن بھر انہوں نے بورڈ کے عہدیداروں اور ملازمین کے ساتھ علحدہ علحدہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹس اور کلرکس کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ طلب کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ فائلوں کی یکسوئی اور عوامی شکایات کی وصولی کے سلسلہ میں جو رہنمایانہ خطوط مدون کئے گئے تھے، ان کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں ۔ فائلوں کی یکسوئی کی رفتار میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ ہر سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے عوامی شکایات اور مسائل کی نمائندگی کا موقف بہتر ہوا ہے۔
سابق میں عہدیداروں کی جانب سے درخواستوں کو قبول کرنے میں ٹال مٹول کا رویہ اختیار کیا جاتا تھا ۔ جناب جلال الدین اکبر کی جانب سے کئے گئے اصلاحی اقدمات سے بورڈ میں ڈسپلن کے نفاذ میں مدد ملی۔ انہوں نے گزشتہ دو ماہ کے دوران ہر سپرنٹنڈنٹ کلرک اور دیگر ملازمین کی انفرادی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ طلب کی۔ بتایا جاتا ہے کہ بیشتر سیکشنوں کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔ سپرنٹنڈنٹس کو روزانہ فائلوں کی یکسوئی کے سلسلہ میں نشانہ الاٹ کیا گیا جن کی تکمیل کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔ بورڈ میں بنیادی سطح سے اصلاحات کی سخت ضرورت ہے اور چند ماہ میں کارکردگی میں سدھار ممکن نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وقف بورڈ کو دیگر سرکاری اداروں کی طرح متحرک اور کارکرد بنانے کیلئے اصلاحات کا تسلسل مزید ایک سال تک جاری رکھنا پڑے گا ۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اصلاحات کی برقراری کو یقینی بنائے۔ اسپیشل آفیسر نے عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کی پیروی اور وقف بورڈ کی جانب سے جوابی حلفنامے داخل کرنے سے متعلق امور کے بارے میں بھی رپورٹ طلب کی ہے۔ اوقافی اداروں پر ناجائز قبضوں کے سلسلہ میں پولیس میں مقدمات درج کرنے ، وقف فنڈ کی وصولی اور اوقافی جائیدادوں کے کرایوں کی وصولی کے موقف کا جائزہ لیا گیا ۔