وقف بورڈ میں دارالقضاۃ کا ریکارڈ کچرے کی نذر

حیدرآباد۔/3مارچ، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ کی زبوں حالی کے بارے میں جتنا بھی لکھا جائے کم ہے کیونکہ وہاں فائیلیں اور ریکارڈز عملاً غیر محفوظ ہیں۔ حج ہاوز میں موجود وقف بورڈ کے مختلف شعبوں سے ریکارڈ کے غائب ہونے کے بارے میں قارئین نے یوں تو کئی بار پڑھا ہوگا لیکن اسی سلسلہ میں ایک تازہ انکشاف آج اس وقت دیکھنے کو ملا دارالقضاۃ کا ریکارڈ کچرے دان میں پایا گیا۔ دارالقضاۃ جس کے تحت نکاح، طلاق، خلع اور مشرف بہ اسلام ہونے کے سرٹیفکیٹ جاری کئے جاتے ہیں وہاں پر ریکارڈز کے تحفظ پر کوئی توجہ نہیں جس کے نتیجہ میں گزشتہ چند برسوں کا تازہ ریکارڈ کچرے دان میں ڈال دیا گیا۔ گزشتہ دو دن سے کچرے دان کے قریب فائیلوں سے بھرے ایک بڑے تھیلے کو دیکھنے کے بعد نمائندہ ’سیاست‘ نے آج اس کی تحقیق کی جس پر یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس میں دارالقضاۃ کا ریکارڈ موجود ہے۔ یہ ریکارڈ 2005 اور 2008 سے متعلق ہے۔ سرٹیفکیٹس کے حصول کیلئے امیدوار متعلقہ دستاویزات کے ساتھ درخواست داخل کرتے ہیں جس میں سیاہیہ نامہ اور نوٹری اور دیگر اہم دستاویزات منسلک ہوتی ہیں۔ ان تمام دستاویزات کے ساتھ ریکارڈ کو کچرے دان کی نذر کردیا گیا جو وقف بورڈ اور دارالقضاۃ کی لاپرواہی کا بدترین ثبوت ہے۔ نمائندہ سیاست نے جب اس سلسلہ میں اسپیشل آفیسر، چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ اور دیگر عہدیداروں کے علاوہ ناظرالقضاۃ کو اطلاع دی تو عہدیدار وہاں پہنچ کر حیرت میں پڑ گئے۔ ناظر القضاۃ اور ان کے ماتحت عہدیدار نے عملے کی کوتاہی کو چھپانے کیلئے فوری اس ریکارڈ کو ریکارڈ روم میں منتقل کردیا اور یہ بہانہ بنایا کہ غلطی سے کسی نے رکھ دیا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں موجود ریکارڈ حالیہ چند برسوں کا ہونے کے باوجود انتہائی ابتر حالت میں تھا اور درخواستیں اور دستاویزات چاک چاک تھے اور دیمک لگ چکی تھی۔ اس سلسلہ میں جب ریکارڈ روم کا معائنہ کیا گیا تو وہاں بھی دارالقضاۃ سے متعلق ریکارڈ ایسے بکھرا پڑا تھا جیسے کوئی کباڑ خانہ ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ ریکارڈ کی صفائی اور درست کرنے کیلئے جن افراد کو متعین کیا گیا وہ ناقص ریکارڈ کو کچرے دان کی نذر کردیتے ہیں اور یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی اس طرح ریکارڈ تلف کرنے کے بارے میں نجی گفتگو میں اعتراف کیا۔ وقف بورڈ کی تشکیل کے بعد سے بتایا جاتا ہے کہ 1962 میں دارالقضاۃ نے سرٹیفکیٹس کی اجرائی کا آغاز کیا اور اصولاً آج تک کا سارا ریکارڈ محفوظ ہونا چاہیئے تاکہ کسی بھی تنازعہ کی صورت میں ریکارڈ کی جانچ کی جاسکے۔ لیکن یہاں قیمتی ریکارڈ کا کوئی پرسان حال نہیں۔ قاضی کی جانب سے شادی کے موقع پر 5سیاہیہ نامے جاری کئے جاتے ہیں۔ دلہا، دلہن کے علاوہ ایک کاپی وقف بورڈ اور آرکائیوز کو دی جاتی ہے جبکہ اصل کاپی قاضی کے پاس محفوظ ہوتی ہے۔ چونکہ قاضی کے پاس ریکارڈ موجود ہوتا ہے شاید اسی لئے دارالقضاۃ کے ذمہ داروں کو ریکارڈ محفوظ کرنے میں دلچسپی نہیں۔ وقف بورڈ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ قاضی اور دارالقضاۃ کا ریکارڈ مختلف ہوتا ہے کیونکہ قبولیت اسلام اور بعض دیگر اُمور میں نوٹری یا سیلف ڈیکلریشن باؤنڈ پیپر پر پیش کئے جاتے ہیں لہذا دارالقضاۃ کو سارا ریکارڈ محفوظ رکھنا چاہیئے۔ دارالقضاۃ کے ریکارڈ روم کا معائنہ کرنے پر پتہ چلا کہ آئندہ چند برسوں میں سارا ریکارڈ ہی دیمک کی غذا بن جائے گا۔ دارالقضاۃ اور وقف بورڈ کے عہدیداروں نے ماتحت عملے پر ناراضگی جتاتے ہوئے اپنی کوتاہی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور کچرے دان سے ریکارڈ کو ریکارڈ روم میں منتقل کردیا گیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں اس طرح کے ریکارڈ کو ضائع کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وقف بورڈ اور اس کے تحت ادارے کس طرح محفوظ ہیں۔ جب دارالقضاۃ کا اہم ریکارڈ اس طرح کچرے دان کی نذر ہوسکتا ہے تو پھر اس بات کی ضمانت ہے کہ اوقافی جائیدادوں کا ریکارڈ اور فائیلیں محفوظ ہوں گی۔ وقف بورڈ کی تقسیم کے دوران فائیلوں اور ریکارڈ کی منتقلی ابھی باقی ہے لہذا اندیشہ ہے کہ اس منتقلی کے دوران وقف مافیا اہم جائیدادوں کے ریکارڈ کو غائب کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اسی دوران اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جلال الدین اکبر نے ریکارڈ کو تلف کرنے کی کوشش پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں دارالقضاۃ سے رپورٹ طلب کریں گے اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔دارالقضاۃ کے عہدیداروں نے ریکارڈ کی اہمیت یہ کہتے ہوئے کم کرنے کی کوشش کی کہ ریکارڈ بھلے ہی محفوظ نہ ہو لیکن تفصیلات رجسٹر میں درج رہتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رجسٹر میں درج تفصیلات کبھی بھی دستاویزات کا متبادل نہیں بن سکتیں۔