وقار انکاونٹر …… مذہبی و سیاسی طاقتیں مکمل ناکام

حیدرآباد ۔ 17 اپریل (سیاست نیوز) شہریان حیدرآباد ان قائدین ملت اسلامیہ کی شدت سے کمی محسوس کرنے لگے ہیں جنہوں نے اس شہر فرخندہ بنیاد میں بسنے والے مسلمانوں کے حوصلوں کو زندہ رکھنے کیلئے حکومت سے الجھنے میں بھی کوئی خطرہ محسوس نہیں کیا اور بعض مرتبہ تو اپنی تائیدی حکومت کے خلاف مساجد کے منبر کو پلیٹ فارم بناتے ہوئے انتباہ دینے سے بھی پیچھے نہیں رہے۔ مولانا حمیدالدین عاقل حسامی ؒ، مولانا سلیمان سکندر اور ان کی طرح دیگر شخصیات نے ملت اسلامیہ کے نوجوانوں پر ہونے والے مظالم پر کبھی خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ حق گوئی سے انحراف کی تمام صورتوں کو کچلنے کیلئے تیار رہے۔ 7 اپریل کو آلیر میں ہوئے 5 نوجوانوں کے انکاؤنٹر کے معاملہ میں نہ صرف مسلم سیاسی قیادت ناکام ہوچکی ہے بلکہ مذہبی قیادت بھی ان معاملات سے نمٹنے کے متحمل نظر نہیں آرہی ہے۔ ریاست آندھراپردیش میں مسلمانوں کا تناسب کم ہونے کے باوجود مسلم قائدین کا رعب و دبدبہ برقرار تھا لیکن ریاست کی تقسیم اور تشکیل تلنگانہ نے اس دبدبہ کو کیا کردیا یہ بات سمجھ سے قاصر ہے حالانکہ ریاست تلنگانہ میں مسلمان آبادی کے اعتبار سے کافی زیادہ ہے۔ سیاسی قیادت کی انکاؤنٹر معاملہ میں کسی بھی طرح کی سخت بیانی یا امت کو جھنجھوڑنے کی کوشش نہ کی جانا اس بات کی دلیل ہیکہ سیاسی قیادت اس معاملہ میں سخت احتجاج کے موڈ میں نہیں ہے جبکہ 5 نوجوانوں کا سفاکانہ قتل کسی مندر کی سجاوٹ سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ مذہبی قیادت جوکہ ہمیشہ ہیں سیاسی وابستگی سے بالاتر احتجاج کیا کرتی تھیں لیکن ان 5 مسلم نوجوانوں کے انکاونٹرس کے معاملہ میں مذہبی قیادت کی ناکامی قابل فکر بن چکی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں مسلم قیادت بالخصوص مذہبی قیادت کا وقار آلیر میں ہوئے وقار اور اس کے ساتھیوں کے انکاونٹر کے بعد مجروح ہوتا جارہا ہے اور مذہبی قیادت کے ذمہ دار اس بات کو محسوس کررہے ہیں لیکن ان کی سیاسی مجبوریاں انہیں لاچار کرتی جارہی ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو عوام میں مذہبی قیادت اپنی وقعت کھو دے گی۔ یقیناً مشترکہ مجلس عمل کے جلسہ میں مسلم مذہبی قائدین بظاہر متحد نظر آئے لیکن جو صورتحال پیدا ہورہی اس سے نمٹنے کیلئے سنجیدہ فکر کے حامل مذہبی رہنماء متفکر ہیں۔ مولانا محمد حمید الدین حسامی عاقل ؒ نے ایسے وقت بھی حکومت کے خلاف آواز اٹھائی جب خود ان کے داماد جناب رحیم الدین انصاری حکومت کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ مولانا عاقل نے اپنی زندگی میں وقت آنے پر حکومت کے خلاف بولنے کے معاملہ میں مصلحت سے کام نہیں لیا بلکہ جب کبھی ضرورت پیش آئی انہوں نے مسجد کے منبر کو ہی سہی اپنا پلیٹ فارم بناتے ہوئے حکومت کو انتباہ دیا اسی طرح مولانا سلیمان سکندر نے بھی اپنی زندگی میں مفاہمت نہیں کی بلکہ سرکاری معاملات کے خلاف جدوجہد کیلئے حضرت خلیل اللہ حسینی ؒ کے مشن پر گامزن رہے اور کل ہند مجلس تعمیر ملت کی جانب سے مظلوموں کی حمایت میں ہمیشہ اٹھ کھڑے ہونے والے صف اول کے قائدین میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ عوام میں یہ احساس پیدا ہوتا جارہا ہیکہ مذہبی قیادت حکومت کی جانب سے جامعہ نظامیہ کو 9 کروڑ 60 لاکھ کی منظوری اور کل ہند مجلس تعمیر ملت کے عہدیدار جناب متین قادری کو تلنگانہ ریاستی پبلک کمیشن کارکن بنائے جانے کے سبب 5 مسلم نوجوانوں کی ہلاکت کے باوجود احتجاج درج کروانے میں ناکام ہورہی ہے اور مابقی تنظیمیں جو موجودہ حکومت سے ابھی تک استفادہ حاصل نہیں کئے ہیں وہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ، تلنگانہ اردو اکیڈیمی اور تلنگانہ اقلیتی کمیشن کی تشکیل سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ اگرچیکہ ایک سیاسی حامی کو محکمہ برقی میں پیوست کیا جاچکا ہے۔ سیاسی قیادت کی مجبوریاں تو پتہ نہیں لیکن مذہبی قائدین جو کہ خلوص دل سے اس معاملہ میں جدوجہد کے حامل ہیں، مشترکہ مجلس عمل کے طریقہ کار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے استفسار کررہے ہیں کہ 5 مسلم نوجوانوں کی زندگیاں اہم ہیں یا کسی مندر کی سجاوٹ کا معاملہ اہم تھا؟