حیدرآباد 15 اپریل (سیاست نیوز) وقار احمد اور اُس کے 4 ساتھیوں کو نلگنڈہ کے آلیر میں مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کئے جانے کے خلاف آج ہائیکورٹ میں رٹ درخواست داخل کی گئی۔ مہلوک نوجوان وقار احمد کے والد جناب محمد احمد نے آج ایک رٹ درخواست داخل کی جس میں اُن کے فرزند اور دیگر نوجوانوں سید امجد علی، ڈاکٹر حنیف، محمد ذاکر اور اظہار خان کو فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کرنے میں ملوث خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف عدم کارروائی کی شکایت کی۔ ہائیکورٹ میں درخواست قبول کرلی گئی ہے اور کل جسٹس ولاس راؤ افضل پورکر کے اجلاس پر سماعت مقرر ہے۔ محمد احمد نے رٹ درخواست میں یہ بتایا کہ نلگنڈہ پولیس آلیر انکاؤنٹر معاملہ میں پولیس اسکاٹ پارٹی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 302 قتل کا مقدمہ درج کرنے میں قاصر رہی ہے۔
ماورائے قانون ہلاکت میں ملوث ہونے والے خاطی عہدیداروں نے اسے انکاؤنٹر کے ذریعہ انسانی حقوق کی پامالی نہیں کی ہے بلکہ دستور میں شہریان کو فراہم کئے گئے کئی حقوق کی پامالی بھی کی ہے۔ ہائیکورٹ سے درخواست گذار نے اپیل کی کہ وہ مہلوکین کی نعشوں کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جائے اور اُن کی جانب سے 11 اپریل کو آلیر پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی شکایت پر کارروائی کی ہدایت دی جائے۔ محمد احمد نے رٹ درخواست میں عدالت سے اپیل کی ہے کہ نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف پولیس کی جانب سے درج کئے گئے مقدمہ جس کا کرائم نمبر 35/2015 ہے اور خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف درج کئے جانے والے قتل کے مقدمہ کی تحقیقات سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن کے حوالہ کی جائے۔ رٹ درخواست میں درخواست گذار نے حکومت تلنگانہ کے علاوہ ڈائرکٹر جنرل پولیس تلنگانہ، سپرنٹنڈنٹ پولیس نلگنڈہ، سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ورنگل، انسپکٹر جنرل پریزنس تلنگانہ، اسٹیشن ہاؤز آفیسر آلیر پولیس اسٹیشن، ڈائرکٹر سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن نئی دہلی، رجسٹرار ہائیکورٹ کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔