ریاست کی تقسیم کے بعد اراضیات کی قیمتوں میں اضافہ، اوقافی جائیدادوں پر سب کی نظریں
ابوایمل
حیدرآباد۔ 7 جون ۔ وشاکھاپٹنم کو اوقافی جائیدادوں کے لحاظ سے آندھراپردیش کے دیگر علاقوں پر برتری حاصل ہے۔ وشاکھاپٹنم کو ساری دنیا میں جہاں اہم بندرگاہ کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے وہیں یہ سید علی اسحاق مدنی اولیاء ؒ جنہیں ہم حضرت اسحاق مدینہ والے بابا ؒ کے نام سے بھی جانتے ہیں ان کے ہمراہ 13 ویں صدی کے بزرگ حضرت بابا سید تاج الدین شاہ قادری ؒ جیسے عظیم بزرگ ہستیوں کی آخری آرام گاہوں کی وجہ سے بھی عالمی شہرت کا حامل مقام ہے۔ مدینہ والے بابا کی درگاہ پر نہ صرف آندھراپردیش، تلنگانہ، ٹاملناڈو بلکہ شمالی ریاستوں کے سبھی مسلم و غیرمسلم عقیدتمندوں کے علاوہ سیاسی قائدین، سیاستداں، فلمی ستارے اور زندگی کے ہر شعبہ کے تمام افراد بلالحاظ مذہب و ملت حاضری دیتے ہیں۔ وشاکھاپٹنم، حیدرآباد سے 630 کیلو میٹرس کے فاصلے پر ریاست آندھراپردیش کا ایک اہم اور تاریخی مقام ہے جوکہ اشوک اعظم، قطب شاہی، مغل سلطنت، آصف جاہی سلطنت، فرانسیسی دورحکومت اور پھر برطانوی سامراجیت میں حکومتوں کے لئے اہم مقام رہا ہے اور اب جبکہ ریاستوں کی تقسیم عمل میں آ چکی ہے تو اوقافی جائیدادوں کے اعتبار سے بھی وشاکھاپٹنم کو ریاست آندھراپردیش میں ایک اہم مقام حاصل ہے اور یہاں موجود کروڑہا روپیوں کی مالیتی اوقافی اراضی صرف آندھراپردیش کے مسلمانوں کیلئے اہم ہیں بلکہ ریاست کی تقسیم کے بعد بھی تلنگانہ کے مسلمانوں کا ان اراضیات سے اہم رشتہ قائم ہے۔ وشاکھاپٹنم کی وقف گزٹ میں درج اوقافی اراضیات کی تفصیلات درج ہے۔ اب جبکہ ریاست آندھراپردیش کے پہلے چیف منسٹر کی حیثیت سے این چندرا بابو نائیڈو اپنے عہدہ کا جائزہ حاصل کرلیں گے تو یہاں کی اوقافی اراضیات کا تحفظ مزید ناگزیر ہوچکا ہے۔ وشاکھاپٹنم کی وقف اراضیات کا جب وقف ریکارڈ کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا تو یہ ایک ایسا ضلع ہے جس میں 16 منڈل اور 40 گاؤں ہیں۔ گزٹ تفصیلات کے بموجب وشاکھاپٹم میں 56,67 ایکڑ اراضی ہے جبکہ 37 مساجد 4 بڑی عیدگاہیں، 5 بڑی درگاہیں موجود ہیں۔ 1985ء میں ان اوقافی جائیدادوں کا پہلی مرتبہ سروے کیا گیا تھا جس میں مساجدکی تعداد کا ذکر تو موجود ہے تاہم کس مسجد کے تحت کتنی ایکڑ اراضی ہے اس کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے جوکہ تشویشناک حقیقت ہے۔ واضح رہیکہ وقف گزٹ میں مساجد، درگاہوں اور عیدگاہوں کی اراضی کا صرف ہندسہ درج ہے تو ان مساجد اور دیگر اوقافی جائیدادوں کے تحت موجود اراضیات کا نیا سروے ناگزیر ہوچکا ہے جس کے بعد ان اراضیات کی مقدار میں غیرمعمولی اضافہ ہی ہوگا کیونکہ ایک مسجد کے ساتھ کئی ایکڑ اراضی وقف کی جاتی ہے تو وشاکھاپٹنم میں موجود وقف مساجد، عیدگاہوں اور درگاہوں کے ساتھ وقف کردہ اراضیات کی تعداد ہزاروں ایکڑ میں ہی ہوگی۔ ریاست کی تقسیم کے بعد اب یہ انتہائی ضروری ہوچکا ہیکہ ان کروڑہا روپیوں کی اراضیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ مسلمانوں کی معاشی اور سماجی فلاح و بہبود کیلئے ان قیمتی اثاثوں کا استعمال کیا جائے۔ ماضی میں وشاکھاپٹنم کی قیمتی وقف اراضیات کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالہ کردیا گیا ہے جس کی تحقیقات بھی ضروری ہیں کیونکہ ہمارے بزرگوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی خوشنودی اور ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود کیلئے اپنی جائیدادوں کو وقف کیا ہے تو یہ حکومت، وقف بورڈ اور ملت اسلامیہ کے ہر فرد کی ذمہ داری ہیکہ وہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کے مقاصد کو پورا کرنے میں اپنا رول ادا کرے۔ وقف بورڈ پر تو اب تقسیم ریاست کے بعد دوہری ذمہ داری عائد ہوچکی ہے کیونکہ جو تفصیلات وقف گزٹ کے حوالہ سے فراہم کی ہیں اس گزٹ میں ہی کمی ہے لہٰذا ضروری ہیکہ وقف بورڈ تمام مساجد، درگاہوں، عیدگاہوں اور دیگر وقف اراضیات کا اندراج اور دوبارہ سروے کرواتے ان کے تحت وقف کی جانے والی اراضیات کی صحیح تعداد کو درج کرے اب جبکہ ریاست کی تقسیم ہوچکی ہے لہٰذا تلنگانہ کی بہ نسبت ڈیولپمنٹ کے پیش نظر آندھراپردیش کی اراضیات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں اور اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی نظریں اوقافی جائیدادوں کو ہڑپنے پر ہیں لہٰذا ان قیمتی اراضیات کی حفاطت انتہائی ضروری ہوچکی ہے۔