تہران۔ 24؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ وزیر خارجہ ایران محمد جواد ظریف نے آج اپنے دو روزہ دورۂ عراق کا آغاز کردیا جو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی شورش کا مقابلہ کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وزیر خارجہ عراق ہوشیار زیباری سے ملاقات اور نامزد وزیراعظم حیدر العبادی سے ملاقات کے دوران وہ ایران۔ عراق سرحد کی حد بندی کے مسئلہ پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایران، عراق کی طرح ہی طویل عرصہ سے سبکدوش ہونے والے وزیر نوری المالکی کا حامی رہ چکا ہے، لیکن بعد ازاں اس نے حیدر العبادی کی تائید میں نوری المالکی کی تائید سے دستبرداری اختیار کرلی۔ انھوں نے کہا کہ عراقی گروپس کو دولت اسلامیہ کے ملک کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرلینے کے بعد متحد ہوکر ان کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ انھوں نے عراقی کردوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ داعش کے جنگجوؤں سے سرکاری فوج کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے مقابلہ کریں۔ دریں اثناء فرانس نے اس علاقہ کے تمام ممالک بشمول ایران پر زور دیا ہے کہ وہ داعش کے خلاف جنگ میں مغربی ممالک سے اتحاد کرلیں،
کیونکہ یہ ملک شام کے لئے بھی خطرہ بن گئے ہیں۔ دریں اثناء ایران نے جدید ترین مختصر مسافتی بحری مزائلس اور فضائی ڈرونس خریدے ہیں۔ خبر کے بموجب غدیر مزائل کا دائرۂ کار 100 کیلو میٹر ہے اور وہ کسی بھی بحری ہدف کو تباہ کرسکتا ہے۔ اس کا دائرۂ کار نصر بصیر کروز مزائل ہے، لیکن یہ مزائل خاموشی سے کارروائی کرتا ہے۔ انھوں نے اپنے بیان کی وضاحت نہیں کی۔ ایران نے اپنے دو نئے ڈرون طیاروں کی بھی نقاب کشائی کی جو انتہائی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے اپنی کارروائی انجام دے سکتے ہیں۔ ان کا نام ’کرار۔4‘ اور ’مہاجر۔4‘ رکھا گیا ہے۔ ’کرار‘ کو فوجی اور سیویلین دونوں مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارہ ’اِرنا‘ نے اس کی اطلاع دی ہے۔ یہ زمین سے زمین پر وار کرنے والے مزائلس ہیں جن کا دائرۂ کار 2,000 کیلو میٹر ہے اور یہ اسرائیل کے علاوہ اس علاقہ کے امریکی فوجی اڈوں کو بھی اپنے حملے کا نشانہ بناسکتے ہیں۔