وزیر اعظم نریندر مودی کو کچرے کی صفائی سے قبل مرکزی کابینہ میں صفائی کرنے کا مشورہ

مجرمانہ ریکارڈ کے کئی وزراء ، سوچھ بھارت اسکیم مضحکہ خیز ، وی ہنمنت راؤ کا بیان
حیدرآباد۔/13نومبر، ( سیاست نیوز) کانگریس کے رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا کہ وہ سوچھ بھارت کے نام پر ملک بھر میں صفائی کی مہم سے پہلے اپنی کابینہ میں صفائی کی مہم چلائیں اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے وزراء کو علحدہ کریں۔ اسمبلی میڈیا پوائنٹ پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے مرکزی حکومت کی جانب سے شروع کردہ سوچھ بھارت اسکیم کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کی جانب سے صفائی کی مہم کا آغازکیا گیا تھا لیکن آج نریندر مودی اسے اپنی شہرت کیلئے استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سوچھ بھارت کا نظریہ نریندر مودی کا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی وزارت میں کئی مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کو شامل کیا گیا جو حکومت کی ذہنیت کو اُجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ نوعیت کے مقدمات اور دیگر فوجداری مقدمات میں ملوث وزراء کو کابینہ میں شامل کیا گیا جن میں گری راج سنگھ اور دوسرے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے افراد کی شمولیت کے ذریعہ آخر نریندر مودی حکومت عوام کو کیا پیام دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ وہ ملک کی صفائی سے پہلے کابینہ کی صفائی کریں اور اس طرح کے متنازعہ افراد کو کابینہ سے علحدہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی ایک طرف سیاست میں مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والوں کو دور رکھنے اور کرپشن کے خاتمہ کی باتیں کررہے ہیں لیکن ان کا عمل اس کے برخلاف ہے۔ فرقہ وارانہ نوعیت کے مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد کی شمولیت جمہوریت پر بدنما داغ ہے اس سے اقلیتوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی حکومت فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے عناصر کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔