٭ وزیر اعظم کے سامنے جمہوریت کی عصمت ریزی:سورین
٭مودی سے برسر عام معافی مانگنے ،جے ایم ایم کا مطالبہ
رانچی / ناگپور 21 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں سیاسی ہراسانی اور ریاستی چیف منسٹروں کی توہین کا سلسلہ جاری ہے ۔ ہریانہ کے چیف منسٹر بھوپیندر سنگھ ہوڈا، چیف منسٹر مہاراشٹرا پرتھوی راج چوہان کے بعد اب چیف منسٹر جھارکھنڈ شیبو سورین تیسرے لیڈر ہیں جنہیں مودی کے ساتھ شہ نشین پر بیٹھنے سے توہین آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑا ۔ مودی کے حامیوں نے شیبو سورین کو لعن طعن بھی کیا ۔ چیف منسٹر مہاراشٹرا پرتھوی راج چوہان نے مودی کے ساتھ شہ نشین پر بیٹھنے سے انکار کردیا ۔ ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے مودی نے ریاستی چیف منسٹروں کے وقار اور عزت کا کوئی خیال نہیں رکھا ۔ مودی کے حامیوں نے جلسہ گاہ میں زبردست نعرے لگائے اور شہ نشین پر بیٹھے ریاستی چیف منسٹرس کی توہین کی ۔ اس طرح کے متواتر واقعات کے بعد کانگریس اور بی جے
پی کے درمیان شدید لفظی جنگ شروع ہوئی ہے ۔ چیف منسٹر جھارکھنڈ نے جو کانگریس کے حلیف لیڈر ہیں الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم مودی کی موجودگی میں سرکاری تقریب کے موقع پر بی جے پی حامیوں کی جانب سے سیاسی مخالفین کی توہین کی گئی ان کی یہ حرکت مرکز ریاست تعلقات کو پامال کرنے کے مترادف ہے ۔ جلسہ میں مودی کے سامنے کسی دوسرے لیڈر یا چیف منسٹر کی توہین کرنا ،شور وغل کرنا، ہلڑ بازی جیسے واقعات ،جمہوریت کی عصمت ریزی کے مترادف ہیں ۔ رانچی میں منعقدہ ایک سرکاری تقریب میں جہاں نریندر مودی نے ترقیاتی پراجکٹس کا افتتاح کیا ۔ سورین کو بی جے پی کارکنوں کے بشمول جلسہ میں شریک عوام کی ہوٹنگ اور سیاسی ہراسانی کا شکار ہونا پڑا ۔ جے ایم ایم لیڈر سورین نے جیسے ہی مائیک سنبھالا تو وہ شور و غل کرنے والے بی جے پی کارکنوں کے ہجوم کو خاموش رہنے کی تلقین کررہے تھے لیکن وہ ناکام رہے تاہم سورین نے اپنی تقریر جاری رکھی اور نریندر مودی نے عوام کو صبر و تحمل سے رہنے کا اشارہ دیا لیکن سورین کی تمام تقریر کے دوران نعرہ بازی ،ہلڑبازی جاری رہی ۔ سورین نے کہا کہ وزیر اعظم کی موجودگی میں مودی کے حامیوں کی ہلڑ بازی افسوسناک ہے بلکہ جمہوریت کی عصمت ریزی کے مترادف ہے۔ ان کی پارٹی جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے مودی سے برسرعام معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ۔ سورین نے بی جے پی کارکنوں کی ہوٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے کہا کہ میری تقریر کے دوران خصوصاً مودی کے حامیوں نے ہلڑ بازی کی
اور توہین آمیز سلوک کیا یہ جمہوریت کے قدروں کو پامال کرنے والی حرکت ہے اگر ایسا ہی رہا تو پھر جمہوریت کا کیا ہوگا ۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ جلسہ میں پیش آئے واقعہ سے چیف منسٹر جھارکھنڈہ کو شدید صدمہ ہواہے ۔ اس سے قبل چیف منسٹر ہریانہ بھوپیندر سنگھ ہوڈا اور ان کے مہاراشٹرا کے ہم منصب پرتھوی راج چوہان کو بھی مودی کی موجودگی میں دو علحدہ علحدہ جلسوں کے دوران ہجوم کی ہلڑ بازی ،شور و غل اور نعرہ بازی کا شکار ہونا پڑا تھا ۔ اس لئے چوہان سے ناگپور میں مودی کے جلسہ کا بائیکاٹ کیا۔ گذشتہ ہفتہ ایک جلسہ میں مودی کی موجودگی میں ان کے حامیوں نے چیف منسٹر پرتھوی راج چوہان کی توہین کی تھی۔ چہارشنبہ کو انہوں نے ناگپور کے جلسہ میں مودی کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کردیا تھا ۔ اپنے چیف منسٹروں کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس نے آج دعوی کیا کہ جلسوں میں ہلڑ بازی منظم سازش کا نتیجہ ہے ۔ اس طرح کے واقعات کا مقصد منتخب چیف منسٹر وںکی توہین کرنا ہے ۔اے آئی سی سی جنرل سکریٹری امبیکا سونی نے کہا کہ مودی کو اپنے پارٹی قائدین سے فوری یہ کہنا چاہئے تھا کہ وہ اس طرح کی حرکتوں سے باز آئیں ۔ انہوں نے بی جے پی کے اس استدلال کو مسترد کردیا کہ کانگریس کو از خود احتساب کرنا چاہئے کہ آخر ایک عام آدمی اپنی قیادت سے ناخوش کیوں ہے ۔