سرینگر ۔ 22 مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیردفاع کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد منوہر پاریکرنے آج پہلی مرتبہ سیاچن گلیشر کا دورہ کیا اور دنیا کی سب سے اونچے جنگی میدان کے فوجی کیمپ میں سپاہیوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے دو روزہ دورہ کا آغاز کرتے ہوئے یہاں کی سیکوریٹی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ منوہر پاریکر نے 9 نومبر کو نریندر مودی حکومت میں وزیردفاع کی حیثیت سے حلف لیا تھا۔ انہوں نے سیاچن گلیشر کا دورہ کرنے کے بعد ریاستی گورنر این این ووہرہ اور چیف منسٹر مفتی محمد سعید سے ملاقات کی۔ ریاست میں سیکوریٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیردفاع اور ان کا قافلہ آج صبح فضائی پٹی پہنچا۔ سیاچن گلیشر کے کیمپ کا دورہ کرنے کیلئے انہوں نے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا۔ وزیردفاع نے سیاچن کی فضائی پٹی پر قائم شہیدوں کی یادگار پر حاضری دیتے ہوئے گلہائے عقیدت پیش کئے۔ اس مشکل ترین چوٹی پر تعینات سپاہیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے ان کے حوصلے بڑھائے۔ پاریکر نے سپاہیوں کے حوصلہ کی ستائش کی اور کہا کہ انہوں نے ملک کی حفاظت کیلئے اپنی جان کی بازی لگا دی ہے۔ گلیشر علاقہ میں سیکوریٹی صورتحال سے متعلق سینئر فوجی عہدیداروں نے وزیردفاع کو بتایا کہ یہاں ہمیشہ چوکسی اختیار کی جاتی ہے۔ پاریکر نے بعدازاں اس علاقہ کا فضائی معائنہ کیا۔ سیاچن سے وہ سیدھا لیہہ پہنچے جہاں جنرل آفیسر کمانڈنگ 14 کاکس لیفٹننٹ جنرل بی ایس ناگی نے انہیں حقیقی خط قبضہ کی صورتحال سے واقف کرایا۔ اپنی آمد کے بعد انہوں نے وادی کشمیر کی مجموعی سیکوریٹی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ ذرائع نے کہا کہ وزیردفاع نے سرحدی علاقوں سے ہونے والی دراندازی کو روکنے کیلئے چوکسی کی ہدایت دی۔