وزیرخارجہ امریکہ کی چینی عہدیداروں سے ملاقات

دونوں وزرائے خارجہ کے ملاقات کے بارے میں علحدہ بیانات جاری ، اختلافات برقرار

بیجنگ ۔ 8 اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکہ اور چین کے اعلیٰ سطحی سفارتکاروں نے آج یہاں ملاقات کی جبکہ امریکہ اور چین کے درمیان متنازعہ جنوبی بحرۂ چین کے سلسلہ میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے اور جون سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے چینی برآمدات پر مزید ٹیکس عائد کردیا جبکہ چین نے 335 ارب امریکی ڈالر مالیتی خسارے کی پابجائی کیلئے اپنی درآمدات میں کمی کردی اور جوابی وار کرتے ہوئے امریکی برآمدات پر ٹیکس میں اضافہ کردیا۔ وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے وزیر خارجہ چین وانگ ای سے پانچ گھنٹہ طویل ملاقات کی وہ اپنے دورۂ ایشیاء کے آخری مرحلے پر چین پہونچے تھے ۔ سی جی ٹی این ٹی وی نے بات چیت کو ’’سردمہر‘ ‘بیان کیا ۔ دونوں قائدین نے اپنے اپنے طورپر ملاقات کی تفصیلات جاری کیں ۔ اپنے تبصرے میں وزیر خارجہ چین نے امریکہ سے فوری گمراہ کن تبصروں اور کارروائیوں سے دستبرداری کا مطالبہ کیا ۔ تائیوان کا مسئلہ اور جنوبی بحرۂ چین کا مسئلہ بھی زیربحث آیا ۔ وزیر خارجہ چین نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کا تذکرہ کرنے سے گریز نہیں کیااور کہا کہ امریکہ کو چین کے ساتھ غلط رویہ تصادم اور صف آرائی کا اختیار کرنے کے بجائے تعاون کرنا چاہئے ۔ امریکہ نے کئی کارروائیوں کی ہیں جو چین کے مفادات کے خلاف ہیں۔ جیسے اُس نے تائیوان کا مسئلہ اُٹھایا ہے اور چین کے داخلی حالات اور خارجہ پالیسی پر غیرضروری اعتراضات کئے ہیں۔ امریکہ نے باہمی اعتماد کے راست اثرات مرتب ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی سے اُن کے باہمی تعلقات بھی متاثر ہوں گے ۔ پومپیو نے کہاکہ شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت جزیرہ نما کوریا کو نیوکلیر ہتھیار سے پاک علاقہ بنانے کیلئے تھی ۔