عزم ہو تو وسائل کی کمی ہمارے قدم نہیں روک سکتی ، حوصلہ افزائی کے لیے جناب زاہد علی خاں کا شکریہ ، ہونہار طالبہ سیدہ حنا آفرین سے بات چیت
نمائندہ خصوصی
حیدرآباد ۔ 12 ۔ جون : مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے بارے میں سارے ملک میں یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ غربت کے باعث مسلم ماں باپ اپنے بچوں کو نہیں پڑھاتے یا پھر اسکولوں میں داخلہ دلواتے بھی ہیں تو دو تین سال بعد یہ سوچ کر تعلیم ترک کروادیتے ہیں کہ بہت ہوچکا کچھ چھوٹا موٹا کام کرتے ہوئے خاندان کی مدد کرو لیکن اب ایسا نہیں غریب ہو یا امیر ہر والدین اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں مصروف ہیں ۔ تعلیم کے معاملہ میں خود خاندانوں میں مسابقت شروع ہوچکی ہے ۔ ہر بچہ یا بچی یہی جانتے ہیں کہ اچھے سے اچھا پڑھیں ۔ پیشہ وارانہ کورس میں داخلہ لے کر اپنے اور اپنے خاندان کے حالات سدھاریں ۔ حالیہ برسوں کے دوران مسلمانوں میں ایک تعلیمی انقلاب برپا ہوا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم طلباء وطالبات میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں وہ اپنی ذہانت کے ذریعہ معاشرہ میں بآسانی اہم مقام حاصل کرسکتے ہیں لیکن انہیں سرپرستی ، حوصلہ افزائی اور اچھی رہنمائی کی ضرورت ہے ۔ قارئین ! آج مسلم بچے بچیاں غیر معمولی ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیشہ وارانہ کورس کے لیے اپنے انتخاب کو یقینی بنا رہے ہیں ۔ ایسے ہی طلبہ میں سیدہ حنا آفرین بھی شامل ہیں ۔ سیدہ حنا آفرین کا تعلق کسی کروڑ پتی ، لکھ پتی یا بہت ہی خوشحال گھرانے سے نہیں ہے لیکن ان کے والدین کے پاس بچوں کی صلاحیتوں و ذہانت کی شکل میں ایسی نعمت و دولت ہے جو روپیے پیسے یا جائیداد سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ حنا نے اس مرتبہ ایمسیٹ ( میڈیسن زمرہ ) میں 3360 رینک حاصل کیا ہے اور امید ہے کہ اس ہونہار دختر ملت کو ایم بی بی ایس میں داخلہ مل جائے گا ۔ اہم بات یہ ہے کہ سیدہ حنا نے گذشتہ سال ایم ایس سے انٹر میڈیٹ میں کامیابی کے بعد ایمسیٹ لکھا تھا لیکن اس وقت وہ 11611 رینک حاصل کرسکی تھیں چونکہ وہ ایم بی بی ایس میں داخلہ کی خواہاں تھیں اس لیے بی ڈی ایس یا فارمیسی کی بجائے ایمسیٹ میں بہتر سے بہتر رینک حاصل کرنے کا ھدف مقرر کرلیا اور اس ضمن میں ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور مینجنگ ایڈیٹر جناب ظہیر الدین علی خاں نے اس ہونہار طالبہ کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ اسے بتایا کہ آپ میں بہت قابلیت ہے ۔ آئندہ سال کے لیے ایمسیٹ کوچنگ حاصل کریں ۔ انشاء اللہ اچھا رینک حاصل کریں گی ۔ کہتے ہیں کہ جو بات دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ان دونوں حضرات کے ان الفاظ کو بارگاہ رب العزت میں قبولیت حاصل ہوئی ہے اور اس سال سیدہ حنا آفرین نے اچھا رینک حاصل کیا ۔ روزنامہ سیاست نے اس طالبہ کو اسپانسر کیا تھا ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ حنا آفرین کا ابتداء سے تعلیمی ریکارڈ بڑا شاندار رہا ۔ راقم الحروف سے بات کرتے ہوئے اس باحجاب لڑکی نے بتایا کہ انہوں نے ادارہ ملیہ ملک پیٹ سے دسویں جماعت میں بھی اعلیٰ نشانات سے کامیابی حاصل کی تھی اور انٹر میڈیٹ میں انہوں نے 95.300 نمبرات حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی تھی ۔ وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود ان کے شاندار مظاہرہ پرا یم ایس کالج کے انتظامیہ نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کی ۔ سیدہ حنا نے بتایا کہ جناب زاہد علی خاں سے انہوں نے ملاقات کرتے ہوئے اپنی کامیابی سے واقف کروایا ہے جس پر انہوں نے مستقبل میں بھی بھر پور تعاون کرنے کا وعدہ کیا ۔ اپنی تعلیمی سرگرمیوں اور شیڈول کے بارے میں حنا نے بتایا کہ وہ تقریبا 10 گھنٹے کالج میں ہی رہتی ہیں اور پھر گھر آکر 12 بجے رات تک مطالعہ میں غرق ہوجاتی ہیں ۔ الصبح چار بجے اٹھ کر پھر مطالعہ کرتیں لیکن ایمسیٹ کی تیاری کے دوران انہوں نے نمازوں کی ادائیگی اور تلاوت قرآن سے کبھی غفلت نہیں برتی ۔ اس سلسلہ میں ان کے والد محترم سید عبدالرفیق اور والدہ محترمہ عصمت رفیق ہمیشہ ان کی رہنمائی کرتے ۔ اپنی کامیابی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے اس طالبہ نے مزید بتایا کہ سب سے پہلے اللہ پر بھروسہ ، ماں باپ کی دعائیں اور پھر محنت کسی بھی انسان کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرتی ہے ۔ مسلم طلباء وطالبات کو چاہئے کہ وہ کسی حال میں نماز ترک نہ کریں ۔ نمازوں سے ذہانت اور قوت حافظہ میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اس لڑکی نے بتایا کہ ان کے والد جناب سید عبدالرفیق خانگی ملازم ہیں اس کے باوجود انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کی ۔ حنا آفرین کے مطابق ایم ایس ایجوکیشن سوسائٹی کے ادارہ میں طویل مدتی کوچنگ کے لیے سیاست نے ان کی جو مدد کی ہے اس کے لیے وہ اور ان کے والدین ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ اس سوال پر کہ وہ سیاست سے کیسے رجوع ہوئیں ؟ سیدہ حنا آفرین نے بتایا کہ وہ سب سے پہلے سیاست ہیلپ لائن سے رجوع ہوئیں جہاں سید خالد محی الدین اسد اور ان کی ٹیم نے مینجنگ ایڈیٹر جناب ظہیر الدین علی خاں سے ملاقات کا مشورہ دیا ۔ حنا نے بتایا کہ ان کے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں ۔ ایک بھائی نے آٹو کیاڈ کیا ہے اور ایک بہن کی شادی ہوچکی ہے ۔ دوسرے بھائی انٹر میڈیٹ سکنڈایر میں زیر تعلیم ہیں ۔ مسلم لڑکیوں کے نام پیام کے بارے میں سیدہ حنا آفرین نے کہا کہ ہمیں کبھی بھی ہمت نہیں ہارنی چاہئے ۔ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی شخصیت کو خود اعتمادی کا نکھار پیدا کرنا ہوگا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ماں باپ کی دعائیں لیتے رہیں کیوں کہ ان کی دعائیں ناکامی کو کامیابی ، شکست کو فتح میں بدل دیتی ہیں ۔ بہر حال سیدہ حنا آفرین کی باتیں سن کر ہمیں ایسا لگا جیسے شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے ایسی ہی دختران ملت کے لیے یہ مصرعہ کہا ہوگا ۔۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زر خیز ہے ساقی