واقعہ معراج نبی کریم ؐکی عظمت کا اظہار‘ مسجد اقصیٰ کی بازیابی ہر مسلمان کا مقصد

حیدرآباد۔17 مئی ( راست ) سبحان الذی اسریٰ بعبدہ قرآن پاک کی ایک عظیم آیت ہے جو 1400 سال پہلے نبی پاکؐ پر نازل ہوئی ۔ یہ آیت آج تک مومنوں کے دلوں میں زندہ ہے ۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم ترین قدرت کا بیان فرمایاہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبؐ کو مسجد اقصیٰ سے سات آسمان تک لے گیا ۔ پھر قاب قوسین تک ۔ ماکذب الفواد وماریٰ ۔ یہ آیت ہمیشہ مومنین کے دلوں میں زندہ رہنے والی ہے ۔مسجد اقصیٰ اور مسجد حرام کی حرمت بتلارہی ہے اللہ رب العزت اگر چاہتا تو نبی کریم ﷺ کو مکہ سے بھی معراج کراسکتا ہے لیکن بیت المقدس سے معراج کرانا یہ اللہ کی حکمت تھی کہ یہاں سے آسمان کا دروازہ کھلتا ہے۔ دنیا بھرکے مسلمانوں کو بیت المقدس سے گہری وابستگی اور اٹٹوٹ رشتہ ہے ۔ اگر مسجد حرام کو نقصان پہونچے تو ہمارا ایمان جائیگا اور اگر مسجد اقصیٰ کا نقصان ہوگا تو مسلما ن ختم ہوجائینگے ۔ آج مسجد اقصیٰ کا معاملہ اسرائیلوں کے ہاتھ میں ہے مسلمانوں کی آج ذمہ داری ہے کہ مسجد اقصیٰ کی حرمت و بازیابی کیلئے کوشش کریں ۔ مسجد اقصیٰ ہمارا پہلا قبلہ ہے کیونکہ مسجد اقصیٰ کے بارے میں حضور ﷺ سے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مسجد اقصیٰ محشر کی زمین ہے ایمان کا جز ہے اسلام کا جز ہے ۔ مسجد اقصیٰ آج تمہیں آواز دے رہی ہے کی میری حرمت کی حفاظت تمہارا فریضہ ہے جو رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتا ہے اُسے مسجد اقصیٰ سے محبت کرنا لازمی ہے ان خیالات کا اظہار کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کے زیر اہتمام برصغیر ہند کی عظیم الشان فقید المثال 20 ویں انٹرنیشنل معراج النبی کانفرنس منعقدہ 16/ مئی 2015ء بروز ہفتہ بعد نماز ِ عشاء بمقام چنچل گوڑہ جونیر کالج گراونڈ پر عاشقان رسول ﷺ کے جم غفیر سے فلسطین سے تشریف لائے مہمان مقرر الشیخ ڈاکٹر محمود الھباش حفظہ اللہ (قاضی اعظم فلسطین و سابق وزیر مذہبی امور فلسطین ) نے اپنے پر جوش خطاب میں کیا ۔ انہوں نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد دکن ہمیشہ سے ہی فلسطینیوں کا حامی رہا ہے ۔ حیدرآباد مسجد اقصیٰ سے محبت کرنے والا شہر ہے جو ایک مبارک شہر کی حیثیت رکھتا ہے جو اولیاء ‘ علماء اور مجاہدین کی سرزمین کہلاتاہے ۔ ہم حیدرآباد دکن کی عوام کے بیت المقدس مسجد اقصیٰ سے محبت کی قدر کرتے ہیں اسی لئے آج کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کی دعوت پر مسجد اقصیٰ کی حرمت اور بازیابی کیلئے دی گئی دعوت کو ہم نے قبول کیا اور اس ہزاروں کے مجمع کو دیکھ کر مسجد اقصیٰ سے حیدرآباد کے مسلمانوں کی والہانہ محبت کا ثبوت ملتا ہے ۔آخر میں انہوں نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ جلد سے جلد بیت المقدس کو اسرائیلوں کے ہاتھوں سے آزادی دے ۔ جناب شاہد اقبال قادری کی ایماء پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں گراونڈ میں موجود ہزاروں کے مجموعے نے ہاتھ اٹھاکر اس بات کا عہد کیا کہ ہم تمام مسلمان فلسطین کے ساتھ ہیں ۔اس وقت لبیک یا قدس اور لبیک یا بیت المقدس کے فلک شگاف نعروں سے گراونڈ گونج رہا تھا ۔ کانفرنس کاآغاز حافظ و قاری صلاح الدین جاوید کی قرا ت سے ہوا ۔ بارگاہِ رسالتماب ﷺ میں ملک محمد اسمٰعیل علی خاں ‘ عبدالکریم رضوی ‘ عمران رضا ‘فرحت اللہ شریف نے ہدیہ نعت پیش کیا ۔ کانفرنس کی نگرانی مولانا سید شاہ محمد قادری ملتانی صاحب ، قیادت مولانا محمد شوکت علی صوفی نے کی ۔مملکت فلسطین کے دو عظیم شخصیات الشیخ عدنان ابوالھیجہ حفظہ اللہ (عزت مآب سفیر مملکت فلسطین نئی دہلی ) و الشیخ صالح فہد محمد حفظہ اللہ ( عزت مآب وزیر سفارت فلسطین نئی دہلی) نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی ۔ صدر رحمت عالم کمیٹی مہمان علماء کرام و مشائخین عظام کا استقبال کیا ۔ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے مولانا ڈاکٹر سید معز الدین قادری شرفی ، مولانا سید شاہ انوار اللہ افتخاری ( نبیرہ حضرت وطن ؒ ؔ) ، مولانا سید محمد تنویر الدین خدا نمائی افتخاری نے کی ۔ سری لنکا سے تشریف لائے دوسرے مہمان مقرر ممتاز عالم دین حضرت العلامہ حافظ احسان اقبال قادری نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں کہا کہ دورِ حاضر میں باطل فرقے نئے نئے فتنے اور شبہات سے سنی نوجوانوں کو گمراہ کرکے اُنکے ایمان کونقصان پہونچارہے ہیں ۔ جو معاشرہ کیلئے ایک ناسور ہے ۔ مولانا نے قرآن و حدیث کے جامع دلائل سے باطل فرقوں کی حقیقت کو آشکار کرتے ہوئے کہا کہ آج الکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ دنیا بھر میں مذہب اسلام کے تعلق سے جو غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ کے آلہ کار و ایجنٹ ہیں ۔ خاص کر گمراہ فرقے قرآن و حدیث میں تفسیر بالرائے اور من مطابق تاویلات فاسدہ کرکے ملت میں انتشار پھیلا رہے ہیں ۔ مولانا نے ان فتنہ پرور گمراہی پھیلانے والوں کا نام لیتے ہوئے کہا کہ انکی غیر اسلامی سازشوں کو بے نقاب کیا جائے گا ۔ مولانا نے کہا کہ یہ تاریخی منظر اور عاشقانِ رسول ﷺ کا اژدہام جو اپنے نبیﷺ کی حرمت وعظمت کیلئے جان تک لٹا سکتا ہے اُسے چاہئے کہ وہ تصانیف اہل سنت جن میں قابل ذکر بہارِ شریعت ‘ انوارِ شریعت یا کم از کم قانون شریعت کا مطالعہ کریں۔ مولانا نے جناب شاہد اقبال قادری کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ آج ہر سنی تنظیم کو چاہئے کہ وہ رحمت عالم کمیٹی کو استحکام بخشے ۔ مولانا نے نوجوانوں سے عہد لیا کہ وہ اس عظیم تنظیم کو اپنی خدمات پیش کرینگے ۔مولانا علامہ محمد عابد رضا مصباحی (لکھنو ) نے اپنے خطاب میں معراج النبی ﷺ کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب ﷺ کو کئی ایک معجزات عطا فرمائے لیکن معراج ایسا معجزہ ہے جسمیں اللہ رب العزت اپنے محبوب ﷺ کو اپنا مہمان بناکر بلایا ۔ اور اپنے دیدار سے مشرف فرمایا نیز اُمت محمدیہ ﷺ کو اس عظیم رات کو نماز جیسی عظیم نعمتِ عبادت عطا فرمائی ۔ مولانا نے نوجوانوں سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ نماز کی پابندی کریں ‘ سنت کے ہر پہلو کو اپنائیں اور پاکیزہ اسوئہ رسول ﷺ میں اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کریں ۔ آج ضرورت ہے نوجوان نسل کو دینی تعلیم سے مکمل آگہی کی کیونکہ دشمنان اسلام مسلمانوں کو ہر طرح سے نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں ‘ کبھی کلچر کے نام پر تو کبھی فیشن کے نام پر‘ والدین و سرپرستوں سے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم و تربیت دیکر اُنہیں گمراہی سے بچائیں جو اُن کا سب سے اہم فریضہ ہے ۔ مولانا اقبال احمد رضوی القادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنت کا پابند بنالے ‘ نمازوں کی پابندی کرے ‘ والدین کا ادب و احترام ‘ اخلاق حسنہ اور گھروں میں اسلامی ماحول پیدا کرے ْ ‘ گھوڑے جوڑے کی لعنت سے بچ کر اپنے آپ کو سچا اور پکا مسلمان بنائے ۔ آج دشمنان اسلام و گمراہ فرقے سنی مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کو تباہ کرنے کیلئے کمر بستہ ہیں تو ہر سنی مسلمان کا فریضہ ہے کہ وہ دینی تعلیم حاصل کرے تاکہ اپنے ایمان و عقیدہ کا تحفظ کرسکے ۔سنی مسلمان اسی راستے پر ہیں جو صحابہ کرام ْ تابعین‘ طبع تابعین اور اولیاء کرام کا راستہ ہے۔ مولانا ڈاکٹر محمد اخلاق شرفی ‘ مرزا نثار احمد بیگ نظامی (ایڈوکیٹ ) نے بھی کانفرنس میں شرکت کی ۔ ڈاکٹر عبدالرحمن خان نائب صدر کمیٹی ‘ ڈاکٹرعظمت رسول ‘سید یونس برکاتی اور عبید اللہ سعدی قادری نے انتظامات کئے اور الکٹرانک میڈیا ‘ پرنٹ میڈیا و محکمہ پولیس کا شکریہ ادا کیا۔ آخر میں صلوٰۃ اور عالم اسلام کے مسلمانوں کیلئے رقت انگیز دعاء پر کانفرنس کا اختتام عمل میں آیا ۔ ٭