سرینگر 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )کشمیر میں دو دن کے بعد آج عام زندگی بحال ہوگئی۔ ضلع بڈگام میںپولیس فائرنگ میں نوجوان کی ہلاکت کے بعد گذشتہ دو دن سے یہاں معمول کی زندگی متاثر تھی۔ حکام نے آج علحدگی پسند قائدین کی نقل و حرکت پر پابندی بھی برخواست کردی ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ وادی میں دکانات ‘ اسکولس اور دیگر تجارتی ادارے کھل گئے۔ ٹرانسپورٹ خدمات بھی بحال ہوچکی ہے۔ علحدگی پسندوں نے گذشتہ ہفتہ ضلع پلواما کے ترال علاقہ میں فوجی کارروائی میں دو نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف ہفتہ کو ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ اس دن عوامی احتجاج کے دوران نربل میں پولیس نے فائرنگ کردی جس میں ایک نوجوان ہلاک ہوگیا ۔ اس کے بعد وادی میں کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ حکومت نے تمام اہم علحدگی پسند قائدین کو گھروں پر نظر بند کردیا۔ ان قائدین بشمول سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق پر عائد پابندی آج ہٹالی گئی ہے ۔ گیلانی ‘میر واعظ ‘ نعیم خان اور محمد یسین ملک نے نربل میں متوفی لڑکے کی رہائش گاہ پہنچ کر ورثاء سے تعزیت کا اظہار کیا۔پولیس ترجمان نے کہا کہ وادی میں صورتحال مجموعی طور پر پرامن ہے ۔