وادی کشمیر میں زبردست بارش اور برفباری

وادی کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش اور برفباری کے باعث ایک تودہ کھسکنے سے ایک 14 سالہ لرکی ہلاک ہوگئی جبکہ سرینگر ۔ جموں قومی شاہراہ کو بند کردیا گیا ہے اور ٹریفک پہلے ہی سے معطل ہے۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ پلوما کی اونتی پور علاقہ میں سندر گنڈ کے مقام پر ایک کمسن لڑکی ہدیٰ جان مٹی کے تودے کے نیچے دب کر فوت ہوگئی ۔ یہ واقعہ جنوبی کشمیر میں کل شام پیش آیا۔ وادی کشمیر کے بیشتر مقامات پر موسلادھار بارش جاری ہے جبکہ آج صبح سے اوسط سے بھاری برفباری ہورہی ہے ۔ ٹریفک ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے بتایا 300 کیلو میٹر طویل سرینگر جموں قومی شاہراہ بند کردی گئی ہے کیونکہ کئی مقامات پر بالخصوص پیرے شمال پہاڑی علاقہ میں مٹی کے تودے کھسکنے اور زوردار بارش کے دوران سڑکوں کا استعمال خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور آئندہ چند گھنٹوں کے دوران موسم خراب ہونے کے پیش قیاسی کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ قومی شاہراہ ، کشمیر کو ملک کے یا پسماندہ حصوں سے جوڑتی ہے، موسم سرما میں مٹی کے تودے گرنے سے اکثر و بیشتر بند رہتی ہے ۔ سرینگر ایرپورٹ کے ذرائع نے بتایا کہ خراب موسم کی وجہ سے آج صبح سے ایک فلائیٹ نہیں آئی جبکہ بارش اور برفباری سے وادی کے کئی مقامات پر برقی سربراہی منقطع ہوگئی اور سرینگر شہر میں تقریباً دو درجن سے زائد بستیاں پانی میں محصور ہوگئیں۔ ڈپٹی کمشنر سرینگر مسٹر فاروق احمد نے بتایا کہ محصور بستیوں سے پانی کی نکاسی کا کام شروع کردیا گیا ۔ دریں اثناء جموں و سرینگر قومی شاہراہ بند ہوجانے پر تقریباً 2,000 گاڑیاں مختلف مقامات پر ٹھہرگئی ہیں جبکہ علاقہ جموں میں موسلادھار بارش سے نشیبی علاقوں زیر آب آگئے ہیں ۔ ایس ایس پی ٹریفک نیشنل ہائی وے مسٹر سنجے کوتوال نے بتایا کہ کچھ وقفہ کیلئے قومی شاہراہ کھول دینے کے بعد 3,000 گاڑیاں روانہ ہوگئیں لیکن آج دوبارہ 3,000 گاڑیاں مختلف مقامات پر پھنس گئی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ جواہر نگر کے قریب دو فٹ سے زائد برف جمع ہوگئی ہے ۔ ٹریفک کیلئے برفباری مسئلہ نہیں ہے بلکہ قومی شاہراہ پر مٹی کے تودے گرجانے سے رکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں۔