وائی ایم سی اے کے کروڑہا روپیوں کے غبن کی تحقیقات کا مطالبہ

تنظیم کا وقار متاثر ، ایم جے ڈیوڈ ، جے بوز پال کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 19 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : وائی ایم سی اے گریٹر حیدرآباد فل اینڈ لائف ممبرس فورم نے حکومت تلنگانہ اور پولیس کے اعلی حکام اور وائی ایم سی اے کے قومی سطح کے ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ وائی ایم سی اے گریٹر حیدرآباد کے 2 کروڑ سے زائد فنڈس کے خردبرد ، تغلب و تصرف اور غبن کے واقعہ میں ملوث وائی ایم سی اے گریٹر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے موجودہ بورڈ آف ڈائرکٹرس کے خلاف آزادانہ تحقیقات کرواتے ہوئے خاطیوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ علاوہ ازیں وائی ایم سی اے کی قدیم باڈی کو تحلیل کرتے ہوئے تشکیل جدید کا اعلان کیا جائے ۔ یہاں وائی ایم سی اے گریٹر حیدرآباد فل اینڈ لائف ممبرس مسرز ایم جے ڈیوڈ ، جے بوزپال نے پریس کانفرنس میں یہ بات بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ وائی ایم سی اے آرگنائزیشن جس کا 103 سال قبل قیام عمل میں لایا گیا تھا جس کی ملک بھر میں زائد از 130 برانچس قائم ہیں جو بہترین کارکردگی انجام دے رہی ہے ۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں واقع وائی ایم سی اے بورڈ ڈائرکٹرس کی جانب سے وائی ایم سی اے کے فنڈس کا مختلف عذر پیش کرتے ہوئے غیر ضروری اور بیجا اصراف اور خرد برد کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجہ میں وائی ایم سی اے کو کافی نقصان ہورہا ہے ۔ اور وائی ایم سی اے کا وقار متاثر ہورہا ہے ۔ واقعہ میں ملوث صدر وائی ایم سی اے گریٹر حیدرآباد رابرٹ سوریہ پرکاش ، نیشنل جنرل سکریٹری سی ایچ آر پی منی کمار ، خازن کرسٹوفر ستیہ راج کے منجملہ 12 افراد کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کروایا تھا ۔ لیکن اس سلسلہ میں تاہم خاطیوں کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی اقدامات کئے گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ وائی ایم سی اے بورڈ کے ہر 2 سال میں ایک مرتبہ انتخابات عمل میں لائے جاتے ہیں جب کہ موجودہ باڈی کی میعاد ختم ہو کر عرصہ ہوگیا لیکن جدید انتخابات کروانے سے متعلق کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے خاطیوں کے خلاف فوری کارروائی کرنے اور باڈی کی تشکیل جدید کا مطالبہ کیا ۔۔