وائی ایس آر سی پی کی راجیہ سبھا رکنیت کیلئے سرگرمیوں کا آغاز

پارٹی قائدین کا حیدرآباد میں کیمپ، صدر پارٹی وائی ایس جگن موہن ریڈی سے ملاقات
حیدرآباد ۔ 20 ڈسمبر (سیاست نیوز) وائی ایس آر کانگریس پارٹی میں راجیہ سبھا کی رکنیت کیلئے دوڑدھوپ شروع ہوگئی ہے۔ وجئے سائی ریڈی پر پارٹی قیادت کی نظر جس سے سابق رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر ایم وی میسورا ریڈی مایوس نظر آرہے ہیں۔ راجیہ سبھا ارکان کے انتخاب میں ابھی کافی وقت ہے۔ تاہم وائی ایس آر کانگریس پارٹی میں سرگرمیاں جاری ہیں۔ آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی کا سرمائی اجلاس جاری ہے۔ تمام قائدین حیدرآباد میں کیمپ کئے ہوئے ہیں اور پارٹی صدر مسٹر وائی ایس آر جگن موہن ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے مختلف مسائل پر گفتگو کرنے کے علاوہ راجیہ سبھا کی رکنیت پر بھی اپنا دعویٰ پیش کررہے ہیں۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی میں راجیہ سبھا کی رکنیت کیلئے ابھی تک دو نام ابھر کر منظرعام پر آئے ہیں جن میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری وجئے سائی ریڈی اور سابق رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر ایم وی میسورا ریڈی ہیں۔ میسورا ریڈی کانگریس سے تلگودیشم میں شامل ہوئے اور ایک مرتبہ کڑپہ لوک سبھا حلقہ سے جگن کے خلاف تلگودیشم پارٹی کے ٹکٹ پر مقابلہ کرچکے ہیں اور جگن موہن ریڈی کے جیل جانے سے دو تین دن قبل وائی ایس آر کانگریس پارٹی میں شامل ہوکر پارٹی کی سرگرمیوں میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔ دوسری جانب وجئے سائی ریڈی کا جگن کے کٹر حامیوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے جگن کے اثاثہ جات اور معاشی معاملت میں ان کا مکمل ساتھ دیا ہے اور غیرمحسوب اثاثہ جات کے معاملے میں وہ جگن موہن ریڈی سے قبل جیل گئے ہیں۔ ان کی وفاداری کو دیکھتے ہوئے صدر وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے انہیں پارٹی کا جنرل سکریٹری نامزد کرتے ہوئے پارٹی امور میں کئی اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ یہاں تک آندھراپردیش کا صدر مقام وجئے واڑہ کو بنانے کا اعلان ہونے کے بعد حیدرآباد سے پارٹی ہیڈکوارٹر کو وجئے واڑہ منتقل کرنے کیلئے اراضی کا جائزہ لینے اور ضروری اقدامات کرنے کی بھی انہیں ذمہ داری دی گئی ہے۔ پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ صدر وائی ایس آر کانگریس پارٹی مسٹر جگن موہن ریڈی نے اس مرتبہ وجئے سائی ریڈی کو راجیہ سبھا روانہ کرنے کا ذہن تیار کرلیا ہے اور ڈاکٹر ایم وی میسورا ریڈی کو مزید انتظار کرنے کی ہدایت دی ہے جس سے ڈاکٹر میسورا ریڈی کے مایوس ہوجانے کی پارٹی حلقوں میں افواہیں گشت کررہی ہیں۔