نیپال میں زلزلے کے دو مزید جھٹکے، بازآباد کاری اور تعمیرنو کا کام جاری

ہزاروں بچوں کی صحت کو خطرہ لاحق، وزیراعظم سشیل کوئرالا کا دورہ ہند
کھٹمنڈو ۔ 25 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ایسا معلوم ہوتا ہیکہ زلزلے نیپال کے شہریوں کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑ گئے ہیں کیونکہ آج بھی زلزلے کے دو زبردست جھٹکے محسوس کئے گئے جبکہ پچھلے زلزلوں سے آئی تباہی کے بعد بازآباد کاری کا سلسلہ ہنوز جاری ہے جس میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 9000 تک پہنچ چکی ہے۔ آج صبح 3.30 بجے کے قریب 4.1 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا جس کا مبدا گورکھا ڈسٹرکٹ میں تھا۔ دوسرا جھٹکا بھی تھوڑی دیر کے بعد محسوس کیا گیا جس کا مبدا ڈولاخان تھا۔ ایسے خاندان جو گذشتہ ماہ آئے زلزلہ کے پے در پے جھٹکوں کی وجہ سے ان کے خاندانوں کا بکھرا ہوا شیرازہ اکٹھا کرنا شاید مشکل ہو اور اب پورا خاندان ایک ساتھ مل کر زندگی گذارے، ایسا ممکن نظر نہیں اتا۔ لہٰذا مستقبل پر غیریقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ 25 اپریل کو آئے زلزلہ میں زائد از نصف ملین عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ جہاں تک بچاؤ اور راحت کاری کا سوال ہے تو اب تک کچھ علاقے ایسے ہیں جو ناقابل رسائی ہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم سشیل کوئرالا بھی ہندوستان کا عنقریب دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ باز آبادکاری اور تعمیرنو کے موضوعات پر ہندوستانی قائدین کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ یونیسیف کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہیکہ نیپال میں مابعد زلزلہ کم و بیش 76,000 بچے ایسے ہیں جو ناقص غذا کے استعمال کے بعد بیماریوں میں مبتلاء ہونے کے اندیشے سے دوچارہیں اور انہیں انسانی بنیادوں پر فوری امداد کی ضرورت ہے جن میں تغذیہ بخش غذا، کپڑے، ادویات اور دودھ وغیرہ شامل ہیں۔ ان بچوں کی عمریں پانچ سال سے بھی کم ہیں جبکہ ایسے بچے جن کی عمریں 14 سال کے قریب ہیں، ان کی تعداد 15000 بتائی گئی ہے اور انہیں بھی بہترین غذاؤں کی ضرورت ہے۔ معتبر ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق نیپال اور ہندوستان میں اچانک سیلاب آنے کے خطرات ٹل گئے ہیں کیونکہ زمین کھسکنے کے بعد دریائے کالی کنڈکی کے بہاؤ میں کیچڑ اور ملبہ کی وجہ سے رکاوٹ پیدا ہوگئی تھی۔ تاہم ہفتہ کی شب تک دریا کی راہ میں موجود رکاوٹوں کی صفائی کے بعد دریا کا بہاؤ معمول کے مطابق ہوگیا جبکہ گذشتہ 16 گھنٹوں سے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہونے کی وجہ سے پانی کا رخ دوسری جانب ہوچکا تھا اور سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ دریں اثناء میاگدی کے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر ٹیک بہادر کے سی نے بتایا کہ یہ علاقہ اب خطرہ سے باہر ہے۔ سیلاب کے خوف کی وجہ سے میاگدی اور اطراف و اکناف کے شہریوں نے نقل مکانی کرتے ہوئے محفوظ مقامات کو ترجیح دی تھی، وہ اب اپنے اپنے مکانات کو واپس آرہے ہیں۔