نیٹ : امتحان کے لیے جنسی ہراسانی اور ذہنی اذیت برداشت کرنے کا ایک اور واقعہ

حیدرآباد ۔ 12۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے طلبہ کو مہینوں کی محنت اور رات کی نیند قربان کرنے کے بعد امتحان کا دن آتا ہے لیکن امتحان مراکز پر لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے نازیبا برتاؤ نے والدین اور اولیائے طالبات کے لیے مزید پریشانیوں کو بڑھانے کے علاوہ امتحان گاہ میں خواتین کے لیے ذہنی دباؤ کا بھی ذریعہ بن رہا ہے ۔ اس سلسلہ کا ایک شرمناک واقعہ کوپا کے لائین اسکول میں پیش آیا جہاں سی بی ایس سی کی جانب سے منعقدہ نیٹ کے امتحان میں امتحان گاہ پر پہنچنے والی لڑکی کو معائنہ کے نام پر زیر جامہ ملبوسات نکال کر امتحان لکھنے کی ہدایت دی گئی ۔ جبکہ ممتحن بار بار اس لڑکی کے قریب آکر کھڑا ہورہا تھا ۔ لڑکی کی شکایت پر دفعہ 509 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔ پولیس کے بموجب مقدمہ درج کرنے کے علاوہ تحقیقات کا بھی آغاز کردیا گیا ہے ۔ لڑکی کی جانب سے کی جانے والی شکایت کے بموجب امتحان کے آغاز سے قبل سیکوریٹی معائنہ کے تحت لڑکی کو زیر جامہ نکال کر امتحان دینے کی ہدایت دی گئی جس کے بعد امتحان گاہ میں بھی موجود ممتحن بار بار لڑکی کے قریب آکر نہ صرف کھڑا ہورہا تھا بلکہ گندی نظروں سے گھو رہا تھا ۔ جس پر لڑکی سوالات کے پرچے سے اپنے سینے کو چھپانے پر مجبور ہورہی تھی ۔ متاثرہ لڑکی کی بہن نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ امتحان ہال میں موجود ممتحن بار بار میری بہن کے پاس آکر کھڑا ہورہا تھا جس سے نہ صرف انہیں ذہنی پریشانی ہورہی تھی بلکہ وہ امتحان بھی بہتر انداز میں لکھ نہیں پائی ۔ دریں اثناء سی بی ایس سی کے مقامی دفتر کے ترون کمار نے کہا کہ انہیں ہنوز اس کی کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی ہے ۔ گذشتہ برس بھی ایسا ہی ایک واقعہ کننور میں بھی پیش آیا تھا جس میں لڑکی نے شکایت کی تھی کہ اسے امتحان لکھنے کے لیے زیر جامہ اتارنے پر مجبور کردیا گیا تھا ۔۔