واشنگٹن 10 فروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ہندوستانی نیو کلیئر پراجکٹس میں امریکی کمپنیاں بھی حصہ لیں گی کیونکہ واجبات کے سوال پر دونوں ممالک خاطر خواہ مفاہمت کرچکے ہیں۔ اس سے چند دن قبل ہندوستان نے یہ واضح کردیا تھا کہ کسی نیو کلیئر حادثہ کی صورت میں متاثرین کی طرف سے ری ایکٹرس کے بیرونی سربراہ کنندگان کے خلاف مقدمہ درائر نہیں کیا جاسکتا ۔ وہائٹ ہاوز میں نائب قومی سلامتی مشیر بن رھوڈز نے کہا کہ ’’ہمارا ایقان ہے کہ ہم خاطر خواہ مفاہمت تک رسائی حاصل کرسکے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ عمل جاری رہے گا ۔ ہم امید کرتے ہیں ہماری کمپنیوں کو اس سے اپنی تشویش کا ازالہ کرنے کا موقع فراہم ہوا ہے اور وہ (امریکی کمپنیاں )ہندوستان ( کے نیو کلیئر پراجکٹس) میں حصہ لینے کے قابل ہوجائیں گے‘‘۔مسٹر رھوڈز جو صدر بارک اوباما سے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں ہندوستان واپسی کے بعد کہا کہ اوباما انتظامیہ نے اس مسئلہ پر حکومت ہند کے ساتھ ہوئے نئے سمجھوتہ سے امریکی کمپنیوں کو واقف کروایا ۔ انہو ںنے کہا کہ سیول نیو کلیئر مسئلہ پر دونوں حکومتوں پر اتفاق صدر اوباما کے دورہ ہند کا ایک کلیدی حصہ ہے ۔ امریکہ نے نئی مفاہمت کی نوعیت کے بارے میں معلومات کو عام کرنے حکومت ہند کیلئے حوصلہ افزائی کی تھی۔