نیویارک۔ 7؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ نیویارک کے شہری آج سڑکوں پر نکل آئے تاکہ غیر مسلح سیاہ فام عوام کی سفید فام پولیس عہدیداروں کے ہاتھوں ہلاکتوں کے سلسلہ کی مذمت کی جاسکے۔ ایک 28 سالہ سیاہ فام شخص جو ایک بچہ کا باپ تھا، کی تدفین کے بعد زبردست بارش کے باوجود بیسیوں احتجاجی مظاہرین ٹائمس اسکوائر میں اور اس کے بعد یونین اسکوائر میں جمع ہوگئے تھے۔ احتجاجیوں کا ہجوم چھتریوں کا سہارا لئے ہوئے تھا اور نعرے لگا رہا تھا ’’میری سانس رُک رہی ہے‘‘۔ 41 سالہ ایرک گارنر جو 6 بچوں کا باپ ہے، جولائی میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک کردیا گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بموجب گارنر کی موت قتل نہیں تھی۔ پولیس نے کہا کہ وہ دم گھٹنے سے ہلاک ہوا تھا۔ گرانڈ جیوری نے چہارشنبہ کے دن فیصلہ سنایا تھا کہ سفید فام پولیس عہدیدار موت کا ذمہ دار نہیں ہے جس پر انسانی حقوق کے علمبردار کارکن گزشتہ چار دن سے مسلسل نیویارک اور دیگر بڑے شہروں میں ملک گیر سطح پر ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوکر احتجاج کررہے ہیں۔ کل کے احتجاجی مظاہرے میں نسبتاً محدود تعداد میں لوگ شریک ہوئے تھے۔ جاریہ ہفتہ کے اوائل میں احتجاجیوں کی تعداد اور بھی کم تھی، لیکن ایک احتجاجی مظاہرہ جو کل شام بروکلین میں مقرر تھا، عوام کا ہجوم شامل تھا۔ امریکہ کے شہروں اٹلانٹا، ڈلاس، ہوسٹن اور ٹمپابے میں چھوٹے چھوٹے احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ آج صبح شہری حقوق کے کارکنوں نے شارپٹن کے قومی کارروائی نیٹ ورک پر ہارلیم میں قبضہ کرلیا۔ جمعہ کے دن احتجاجی مظاہرین نے کولمبیا یونیورسٹی میں زمین پر لیٹ کر مرے ہوئے افراد کی اداکاری کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا۔
نیوجرسی: گیس کا اخراج، 2 ہلاک
نیوجرسی۔ 7؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ امریکی شہر پیسائیک میں عمارت میں گیس کے اخراج کے باعث2افرادہلاک ہوگئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق گیس کا اخراج پیسائیک شہر کی ایک عمارت میں ہوا جس کے باعث2 افراد ہلاک جبکہ12کی حالت خراب ہوگئی۔