نیوکلیئر اسلحہ کانفرنس میں امریکہ، برطانیہ کی شمولیت

ویانا ۔ 8 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ اور برطانیہ آج پہلی مرتبہ اس عالمی کانفرنس میں شریک ہوئے جہاں نیوکلیائی ہتھیاروں سے درپیش جوکھم و خطرات پر غوروخوض ہورہا ہے، اس طرح دونوں نے گذشتہ ادوار کی بات چیت سے بے التفائی کے برعکس اقدام کیا ہے۔ دونوں ممالک اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین ہیں اور ان 9 مملکتوں میں شامل ہیں جن کے پاس نیوکلیئر ہتھیاروں کی موجودگی کی تصدیق ہے یا عین ممکن ہیکہ وہ اس کے حامل ہوسکتے ہیں۔ یہ دونوں نے گذشتہ سال ناروے میں اور 2014ء کے دوران میکسیکو میں منعقدہ اجلاسوں میں شرکت نہیں کی تھی۔ آج کی میٹنگ نے 160 ممالک کے لگ بھگ 800 مندوبین شریک ہوئے اور دنیا کے 16,300 نیوکلیائی اسلحہ پر غوروخوض کیا۔ منتظمین نے کہا کہ ویانا میں اسلحہ کے حامی دیگر شرکاء میں پاکستان اور ہندوستان ہیں لیکن روس، فرانس اور چین نے اپنے سرکاری مندوبین نہیں بھیجے۔ یہ اوربات ہیکہ چین کی طرف سے حکومت کے قریبی سمجھے جانے والے بااثر ادارے نے نمائندگی کی۔ دیگر غیرحاضر ممالک نے شمالی کوریا اور اسرائیل شامل ہے۔ پیانگ یانگ حکومت نے حال ہی میں 3 نیوکلیائی تجربات کئے ہیں جبکہ اسرائیل کے تعلق سے عمومی رائے ہیکہ مشرق وسطیٰ کی یہ واحد ایٹمی اسلحہ کی حامل مملکت ہے ، حالانکہ اس نے کبھی اس کا اعتراف نہیں کیا ہے۔ دو روزہ میٹنگ میں سیر حاصل مباحث کئے جائیں گے۔