مولانا ابوالکلام آزاد و اردو کانفرنس، جناب عامر علی خان اور دیگر شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد ۔ 15 نومبر (سیاست نیوز) نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خان نے کہا کہ کسی بھی ملک یا قوم کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر ہے اور نوجوان ملک و قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ اپنے مستقبل کو سنوارنے کیلئے اپنی تعلیمی منزل کی حد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مقصد میں کامیابی کے عزم کے ساتھ احساس کمتری سے بالاتر ہوکر تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں تاکہ دور جدید میں مسابقتی دوڑ میں آگے آنے کیلئے اپنے آپ میں اعتماد پیدا کیا جاسکے جیسا کہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک مسلم اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے کے باوجود ان میں موجود صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے اس وقت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے انہیں ملک کے پہلے وزیرتعلیم جیسے جلیل القدر عہدے پر فائز کیا تھا۔ آج ملک کے مسلم اقلیتی نوجوانوں کو بھی چاہئے کہ وہ مولانا ابوالکلام آزاد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تعلیمی میدان میں بہترین مظاہرہ کریں تاکہ ملک و قوم کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کے نام کو بھی روشناس کیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار آج تلنگانہ اردو فورم و مظہر ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیراہتمام پریس کلب بشیرباغ میں منعقدہ یوم امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد اردو کانفرنس سے مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد اور سیکولر ہندوستان کی خوبصورتی کا راز یہی ہیکہ ہر 50 کیلو میٹر کے فاصلہ پر ایک نیا کلچر، نیا کھانا اور نئی زبان ملتی ہے۔ جناب عامر علی خان نے ملک کے مسلم اقلیتی نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ صرف ڈاکٹر یا انجینئر بننے کی خواہش کی بجائے آئی اے ایس، آئی پی ایس یا دیگر شعبہ سے متعلق اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کریں تاکہ حکومت کے دیگر شعبہ جات کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوکر ملک و قوم کی ترقی کرنے کے اہل بن سکیں۔ انہوں نے نوجوان طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ جس شعبہ میں بھی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہوں اس شعبہ میں پھرتی اور سرعت کے ساتھ محنت و مشقت سے اپنے فن میں مہارت حاصل کریں اور اپنے آپ میں صلاحیت پیدا کریں تاکہ آپ کی قدر و منزلت کا لوہا منوانے میں دشواری نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلم معاشرے میں کئی برائیاں جنم لے رہی ہیں جس کا اہم سبب دین اسلام سے بے رغبتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر دین اسلام کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جدید عصری ٹیکنالوجی سے مربوط اعلیٰ تعلیم کے حصول کی جدوجہد میں لگ جائیں اور اپنے اندر خوش اخلاقی، خوش مزاجی، ملنساری، بھائی چارگی کو پروان چڑھائیں تاکہ ملک کے تمام طبقات ہندو مسلم سکھ عیسائی یکجہتی کے ساتھ امن و امان کی زندگی گذار سکیں۔ انہوں نے مسلم نوجوانوں کو رات دیر گئے تک جاگنے سے گریز کرتے ہوئے نمازوں کی پابندی کرنے اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے کی تلقین کی۔ آخر میں انہوں نے صدر تلنگانہ اردو فورم مسٹر اسمعیل الرب انصاری کی اردو کی ترقی کے کاز کیلئے انجام دیئے جانے والی خدمات کی بھرپور ستائش کی۔ اس موقع پر سکریٹری اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت زیادہ تعریف کی محتاج نہیں ہے جنہوں نے ملک کی آزادی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کی ملک و قوم کی ترقی کیلئے انجام دیئے گئے کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان میں جو ایجوکیشن پالیسی مرتب کی گئی ہے مولانا آزاد کی مرہون منت ہے اسی وجہ سے نہ صرف آندھرا و تلنگانہ بلکہ سارے ہندوستان میں مولانا آزاد کے یوم پیدائش کے موقع پر سرکاری طور پر ’’یوم تعلیم‘‘ اور ’’یوم اقلیتی بہبود‘‘ تقاریب منعقد کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج مولانا آزاد کے نام سے جلسوں کے انعقاد سے زیادہ ان کے نقش قدم پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مسلم نوجوانوں سے پرزور اپیل کی کہ انہیں سیول سرویس گروپ I کے امتحانات میں حصہ لینے کی ضرورت ہے اور اس سال حال 2 مسلم نوجوانوں کی سیول سرویس اسکریننگ ٹسٹ میں منتخب ہونے پر اظہارمسرت کیا۔ پروفیسر ایس اے شکور نے ادارہ روزنامہ سیاست کی جانب سے اردو کی ترقی کے علاوہ طلباء میں تعلیمی شعور بیدار کرنے اور انہیں روزگار سے مربوط ٹریننگ، کوچنگ کلاسیس کے انعقاد پر ایڈیٹر جناب زاہد علی خان اور نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خان کی خدمات کی بھرپور ستائش کی اور ساتھ ہی ساتھ سید عمر جلیل آئی اے ایس اور اسمعیل الرب انصاری کی بھی خدمات کی ستائش کی۔ اس موقع پر رکن قانون ساز کونسل حافظ پیر شبیراحمد نے مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی، سماجی ادبی اور ملک و قوم کیلئے کی گئی خدمات کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔ مسٹر سید عمر جلیل آئی اے ایس نے کہا کہ آج مسلم اقلیت آپسی اختلافات اور عنانیت کے نتیجہ میں اندرونی خلفشار کا شکار ہیں جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی ترقی میں رکاوٹیں حائل ہورہی ہیں اور مسلمان تعلیمی میدان میں آگے آنے سے قاصر ہیں جبکہ دورحاضر میں مسلمانوں کو اپنے آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس موقع پر ڈیویژنل ووکیشنل آفیسر میدک و حیدرآباد مسٹر راجہ رام میدک و حیدرآباد میں اردو ذریعہ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی گھٹتی ہوئی تعداد پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ حیدرآباد اور میدک میں واقع جملہ 20 جونیر کالجس میں صرف 3100 طلباء زیرتعلیم ہیں جن کے منجملہ ضلع حیدرآباد کے 10 کالجس میں 2400 طلباء اور ضلع میدک میں واقع 10 کالجس میں 700 طلباء شامل ہیں اردو میڈیم ذریعہ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ جو مسلم آبادی کے تناسب کے لحاظ سے بالکلیہ نہیں کے برابر ہے جبکہ آج اردو کی ترقی کیلئے جدوجہد کی جارہی ہے۔ انہوں نے مولانا آزاد کی خدمات کو خراج پیش کیا۔ ڈی ای او رنگاریڈی شریمتی جیہ پردہ نے تجویز پیش کی کہ شمس آباد میں ایک اردو میڈیم کالج قائم کیا جائے۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈی ای او مسٹر روی کمار، صدر ایم پی جے جناب حامد محمد خان، پروین بیگم نے بھی مخاطب کیا۔ جلسہ کی کارروائی صدر تلنگانہ اردو فورم نے چلائی۔ اس موقع پر صفدریہ گرلز ہائی اسکول کی طالبات نے اردو میں ’’میری اردو زبان فخر ہندوستان‘‘ نظم پیش کی۔ قبل ازیں اس موقع پر نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خان نے صحافی نصراللہ کو تہنیت پیش کی۔