نواز شریف کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے عدالت کا حکم

لاہور 16 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کی ایک عدالت نے آج وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی و چیف منسٹر صوبہ پنجاب شہباز شریف کے علاوہ 19 دوسرے افراد کے خلاف قتل کے الزامات عائد کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ یہ مقدمہ تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہر القادری کے ہیڈ کوارٹرس کے قریب ہوئے تشدد کی پاداش میں دائر کیا جائیگا جس میں علامہ طاہر القادری کے 14 حامی ہلاک ہوگئے تھے ۔ لاہور کی سشن عدالت نے اس مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کہ 21 افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ دائر کیا جائے جن کے نام پاکستان عوامی تحریک نے اپنی شکایت میں دئے ہیں۔ دو خواتین کے بشمول پاکستان عوامی تحریک کے 14 کارکن پولیس کے ساتھ 17 جون کو ہوئی خونریز جھڑپوں میں ہلاک ہوگئے تھے ۔ عدالت نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں دیا ہے

جب علامہ طاہر القادری اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اسلام آباد میں ہزاروں حامیوں کے ساتھ نواز شریف حکومت کو زوال کا شکار کرنے کیلئے احتجاج کر رہے ہیں۔ آج کی سماعت میں اڈیشنل سشن جج راجہ اجمل نے پولیس کو حکم دیا کہ وہ نواز شریف ان کے بھائی شہباز شریف ان کے بھتیجے حمزہ شہباز ‘ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور دوسروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرے ۔ قبل ازیں شہباز شریف حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایک رکنی عدالتی کمیشن نے اس واقعہ کی تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ میں صوبائی محکموں کو اس واقعہ کیلئے ذمہ دار قرار دیا تھا ۔

علامہ طاہرالقادری نے اس کمیشن کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ آزادانہ تحقیقات کروائی جانی چاہئیں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب شریف بھائیوں کو اقتدار سے بیدخل کردیا جائیگا ۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی اس واقعہ کی مذمت کی گئی تھی اور انہوں نے اس واقعہ کو فاشسٹ قرار دیا تھا ۔ اس دوران وزیر اعظم نواز شریف نے لاہور میں اپنی قیامگاہ پر اپنے بھائی شہباز شریف کے ساتھ اس واقعہ پر غور و خوض کیا ہے ۔ اس دوران پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کے ایک لیڈر نے بتایا کہ اس لاہور سشن عدالت کی جانب سے آج جو حکمنامہ جاری کیا گیا ہے اس کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جائیگا ۔ پنجاب حکومت اس کو چیلنج کریگی ۔ علامہ طاہرالقادری نے تاہم آج عدالت کی جانب سے جاری کردہ حکمنامہ کا خیر مقدم کیا ہے ۔واضح رہے کہ اسلام آباد میں طاہر القادری اور عمران خان حکومت کے خلاف سرگرم احتجاج کر رہے ہیں۔