نن کی اجتماعی عصمت ریزی پر عیسائیوں کا یکجہتیجلوس

کولکتہ ۔15مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) ضلع ندیا کے ایک کانونٹ اسکول میں اجتماعی عصمت ریزی کی شکار سینئر نن کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے رومن کیتھولک آرچ بشپس نے کولکتہ میں کل ایک احتجاجی جلوس نکالنے کا فیصلہ کیا ہے جو آیلن پارک سے پارک اسٹریٹ تک نکالا جائے گا ‘ تاکہ متاثرہ کے ساتھ اظہار ہمدردی و یکجہتی کیا جاسکے ۔ کولکتہ کے آرچ بشپ تھامس ڈیسوزا نے کہا کہ وہ سماج میں عدم تشدد کی اہمیت اور خواتین کے احترام کے بارے میں عوام کا شعور بیدار کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے سماج کے تمام شعبوں سے عوام سے جلوس میں شرکت کی اپیل کی ہے ۔ ناگپور سے موصولہ اطلاع کے بموجب آر ایس ایس نے آج مغربی بنگال کے ایک کانونٹ اسکول میں ایک سینئر نن کی مبینہ عصمت ریزی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کو طبقات کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے ۔ آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری بھیاجی جوشی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ تمام مہذب معاشرہ ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لیکن ایسے واقعات کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے مختلف طبقات کے درمیان کشیدگی پھیلانے کا ذریعہ نہیں بنایا جاناچاہیئے ۔

کولکتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب بی جے پی کے قومی سکریٹری سدھارتھ ناتھ سنگھ نے آج ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیریک اوبرائن کو چیلنج کیا کہ وہ شہر میں نن کی مبینہ عصمت ریزی کے خلاف احتجاجی جلوس منعقد کر کے دکھائیں جس طرح کہ انہوں نے دہلی کے ایک چرچ پر حملہ اور اُس میں توڑپھوڑ کے بعد نکالا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مبینہ عصمت ریزی ایک قابل مذمت واقعہ ہے ۔ وہ اوبرائن سے سوال کرنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ دہلی کی طرح کولکتہ میں بھی احتجاجی جلوس نکالیں گے ۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب کانگریس قائد پی سی چاکو نے آج نن کی مبینہ اجتماعی عصمت ریزی کی مذمت کرتے ہوئے مغربی بنگال کے کانونٹ اسکول میں توڑپھوڑ پر سخت تنقید کرتے ہوئے خاطیوں کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خاطیوں کو سزا دی جانی چاہیئے ۔