’نیروو مودی 10,000کروڑ روپئے کیساتھ فرار، مودی جی خاموش‘
نئی دہلی 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر نوٹ بندی کے فیصلے سے ملک کے بینکنگ نظام کو تباہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہاکہ مختلف ریاستوں میں نقدی کی قلت کی اطلاعات کے سبب ملک پھر ایک مرتبہ نوٹ بندی کی دہشت کی گرفت میں آگیا ہے۔ کانگریس کے صدر نے جو اپنے پارلیمانی حلقہ امیٹھی میں ہیں، ٹوئیٹر پیغام کے ذریعہ مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیاکہ اُنھوں (مودی) نے ہر ہندوستانی کی جیب سے 500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں کو چھین کر نیروو مودی کو دیدیا لیکن اس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا اور نہ ہی پارلیمنٹ کا سامنا کیا۔ اکثر اے ٹی ایمس میں نقدی کی قلت کی اطلاعات پر گاندھی نے کہاکہ ’’مودی جی نے ملک کے بینکنگ نظام کو تباہ کردیا‘‘۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ نیروؤ مودی 10,000ہزار کروڑ روپئے کے ساتھ ملک سے فرار ہوجانے کے بعد وزیراعظم مودی نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ کانگریس کے صدر نے کہاکہ ’’وزیراعظم سارے ملک کو قطاروں میں کھڑا کردینے کے بعد ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکے ہیں۔ اُنھوں نے آپ (عوام) کے جیب سے 500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹ چھین کر نیروؤ مودی کے جیب میں ڈال دیا اور اب وہ پارلیمنٹ میں کھڑے رہنے سے بھی خوفزدہ ہورہے ہیں۔راہول گاندھی نے ٹوئیٹر پر مزید لکھا کہ ’’نوٹ بندی کے دھوکے کو سمجھئے۔ آپ کی رقومات نیروؤ مودی کے جیب میں چلی گئی۔ مودی جی کی ’’ملیا مایا‘ اور پھر نوٹ بندی کی دہشت دوبارہ پھیل رہی ہے۔ ملک کے ایم ٹی ایم خالی ہوچکے ہیں۔ ملک کے بینکوں کے لئے کیا گیا ہے‘‘۔ کانگریس میں شعبہ مواصلات کے انچارج رندیپ سرجے والا نے بھی وزیراعظم کو طنز اور تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ ’’صاحب بیرونی دوروں کے مزے اُڑا رہے ہیں۔ ملک کے عوام بینکوں میں نقدی تلاش کررہے ہیں‘‘۔ آندھراپردیش، تلنگانہ، مدھیہ پردیش، بہار اور کرناٹک میں نقدی کی قلت اور اکثر اے ٹی ایمس خالی پڑے ہیں۔ لیکن حکومت نے کہا ہے کہ حالیہ تین ماہ کے دوران نقدی کی طلب میں اضافہ کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
مودی 15 منٹ بھی لوک سبھا کا سامنا نہیں کرسکے : صدر کانگریس
امیتھی 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے سیشن کے عملاً ضائع ہوجانے پر حکمراں بی جے پی کی تنقیدوں کے درمیان کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے جوابی وار کرتے ہوئے آج کہاکہ وزیراعظم کے پاس سارے ملک کے دورے کرنے کے لئے تو وقت ہے لیکن وہ لوک سبھا اجلاس میں شرکت کے لئے 15 منٹ کا وقت نہیں نکال سکے۔ راہول گاندھی نے اپنے پارلیمانی حلقہ امیتھی کے تین روزہ دورہ کے دوسرے دن اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’’وزیراعظم سارے ملک کا سفر کیا کرتے ہیں لیکن لوک سبھا میں خطاب کے لئے اُن کے پاس 15 منٹ کا وقت بھی نہیں ہے‘‘۔ راہول نے کہاکہ ’’15 منٹ دیدیں۔ (مودی) کھڑے نہیں ہوپائیں گے۔ لوک سبھا میں، ہمارے سوالوں کا ایک بھی جواب نہیں دے سکیں گے‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’یہ رفال معاملت صاف سیدھا چوری کا معاملہ ہے جس میں 45 ہزار کروڑ روپئے ایک صنعتکار دوست کو دیدیئے گئے‘‘۔ ایک سوال پر راہول گاندھی نے کہاکہ ’’نوجوانوں سے روزگار چھین لئے گئے لیکن وزیراعظم نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ اُنھوں (مودی) نے نیروو مودی کو نیرو اور میہول چوکسی کو میہول بھائی کہا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ کس کے اچھے دن آئے ہیں‘‘۔ کانگریس کے صدر نے مزید کہاکہ مودی جی نے کہا تھا کہ عوام کے لئے اچھے دن آئیں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیروو مودی اور میہول چوکسی جیسے 15 لوگوں کے لئے اچھے دن آئے ہیں جبکہ کسانوں، مزدوروں، محنت کشوں اور غریبوں کے لئے بہت بُرے دن آئے ہیں‘‘۔