نظم

نہ قول و فعل میں ہرگز ذرا بھی فاصلہ رکھو
جو ظاہر ہے وہی باطن کا اپنے سلسلہ رکھو
کبھی خود کو نہ تم خوش فہمیوں میں مبتلا رکھو
اگر اعمال اچھے ہیں تو اچھا آسرا رکھو
ذراسی چوک سے بھی زندگی برباد ہوتی ہے
ہمیشہ اہل دل اہل نظر سے رابطہ رکھو
گنوا مت دیجئے اپنے حسیں اخلاق کی رنگت
بچا کر مفلسی میں بھی سخاوت کی ادا رکھو
متاع زندگانی اصل میں ہے بندگی اس کی
یہی تم ائے دل اپنے عمل کا مدعا رکھو

Leave a Comment