نشے کی لعنت قوم کے لئے تکلیف کا باعث

نئی دہلی۔ 14؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ نشے کی لعنت اور اس کے تباہ کن اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ سماج کے ساتھ ساتھ حکومت کو اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے متحدہ مقابلہ کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کی مدد کے لئے بہت جلد ہیلپ لائن قائم کی جائے گی۔ ریڈیو پر اپنے تیسرے ’’من کی بات‘‘ پروگرام میں انھوں نے کہا کہ یہ لعنت ایک قومی درد بن چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اس لعنت کا شکار ہونے کی بجائے نشیلی اشیاء کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ نشیلی اشیاء کی عادت 3D سے بھری ہوئی ہے جن میں تاریکی، تباہی اور بربادی شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک ایسا نظام یا عمل شروع کیا جانا چاہئے جس کے ذریعہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہمارا ملک اس مسئلہ سے چھٹکارہ حاصل کرے۔

وہ کوشش کریں گے کہ فلمی دنیا، اسپورٹس اور دیگر شعبہ جات کی مقبول اور اہم شخصیتوں کو اس مہم میں شامل کریں تاکہ ہندوستان کو نشیلی اشیاء سے آزادی حاصل ہوسکے۔ انھوں نے کہا کہ نئی نسل کے تعلق سے انھیں کافی عرصہ سے تشویش رہی ہے۔ کسی کا بیٹا اگر اس لعنت میں مبتلا ہوجائے تو وہ جہاں کہیں ہوگا، تباہی اس کا مقدر ہوگی، کیونکہ نشیلی اشیاء اسے تباہ کرکے ہی چھوڑتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ نشے کی عادت بُری ہے، لیکن بچکانی نہیں۔ نفسیاتی، سماجی، طبی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خاندان، دوست احباب، سماج اور حکومت کے ساتھ ساتھ قانون کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ اس مسئلہ پر قابو پایا جاسکے۔ ہم سب الگ الگ یا انفرادی طور پر کام کریں گے تو نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ انھوں نے عہدیداروں کو ٹول فری ہیلپ لائن عنقریب قائم کرنے کی ہدایت دی جہاں اس مسئلہ سے دوچار افراد کی رہنمائی کی جاسکے۔ وزیراعظم نے اس لعنت کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی خصوصی مہم شروع کرنے پر بھی زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس لعنت سے چھٹکارا ہمارے ملک کی ترقی کا نقیب ہوگا۔