نجکاری کیلئے 43,000 کروڑ روپئے کا نشانہ : جیٹلی

نئی دہلی 5 فروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیر فینانس ارون جیٹلی بجٹ برائے 2015-16 ء میں امکان ہے کہ خانگیانے سے حاصل ہونے والی رقومات کے معاملہ میں لگ بھگ 43,000 کروڑ روپئے کا نشانہ مقرر کریں گے، جو تقریباً وہی سطح ہے جس کی حکومت اِس مالی سال پبلک سیکٹر یونٹوں میں حصص کی فروخت سے حصولیابی کی توقع رکھتی ہے۔ ایک ذریعہ نے کہاکہ بجٹ میں نجکاری کا نشانہ اِس مالیاتی سال کے نشانہ کی مطابقت میں ہونا چاہئے۔ صرف چند بڑی کمپنیاں ہی ہیں جنھیں اقل ترین سرکاری حصص برقرار رکھنے کے اصول کی تعمیل کرنی ہوگی۔ جیٹلی 28 فروری کو بجٹ برائے 2015-16 ء پیش کریں گے۔ حکومت ٹیکس وصولی کے بعد مالیاتی خسارہ کی پابجائی کے لئے وصولیات کے بڑے ذریعہ کے طور پر خانگیانے کے عمل کو ہی اہم وسیلہ سمجھتی ہے۔ اِس سوال کی وضاحت کرتے ہوئے کہ اِس نشانے کو کیوں زیادہ اونچا رکھا نہیں جاسکتا، ذریعہ نے کہاکہ ہم آئندہ مالی سال کے اندرون سی آئی ایل میں زیادہ بڑے پیمانے پر نجکاری کے عمل کو آگے نہیں بڑھاسکتے۔ اگرچہ مارکٹ میں لین دین اونچی سطح پر چل رہا ہے لیکن عوامی شعبہ کی کمپنیوں کے اسٹاکس بدستور متوقع قدر سے کم ہیں۔ حکومت نے گزشتہ ہفتہ کول انڈیا (سی آئی ایل) میں 10فیصد حصص 22,558 کروڑ روپئے میں فروخت کیا تھا۔ اسے اس کمپنی کے مزید 5 فیصد حصص فروخت کرنا ہے تاکہ مارکٹ ریگولیٹر سیبی کے مقررہ کم از کم 25 فیصد عوامی حصص کے اصول کی تعمیل ہوسکے۔