ناخواندہ اور غریب میکانک نے ہاسپٹل قائم کردیا

گجرات کے حسین مومن کا کارنامہ
احمدآباد ۔ 18 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )عوام کی خدمت کا حقیقی جذبہ اگر ہو تو کوئی رکاوٹ مانع نہیں ہوتی ۔ اس کا ثبوت ایک ناخواندہ اور غریب میکانک نے دیا ہے جنھوں نے اپنی محنت کی جمع پونجی ایک عظیم کاز کیلئے لگادی اور آج یہ ہاسپٹل کی شکل میں موجود ہے ۔ احمدآباد سے تقریباً دس کیلومیٹر دور واقع طلاؤ گاؤں میں جہاں عوام طبی خدمات سے محروم تھے ، اب تک اس ہاسپٹل کی وجہ سے 2000 سے زائد مریضوں کی زندگی بچائی جاسکی ۔ یہ کارنامہ 48 سالہ حسین مومن کا ہے ۔ اُن کی غریب ماں ذہنی تناؤ کے عارضہ کا شکار تھی اور گاؤں میں معیاری طبی خدمات نہ ہونے کی وجہ سے 2002 ء میں اُن کی موت واقع ہوگئی ۔ حسین مومن اُس وقت 8 سال کے تھے جب اُن کے والد اُنھیں اور اُن کے دو بھائیوں کو چھوڑکر چلے گئے تھے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے والد خاندان کی کفالت کے متحمل نہیں تھے اور اُنھوں نے غربت کے آگے مجبور ہوکر خاندان سے ترک تعلق کرلیا تھا۔ ایسے حالات میں ماں کی علالت نے حسین مومن اور اُن کے دو بھائیوں کو اسکولی تعلیم سے دور کردیا۔ وہ ایک کھیت میں کام کرتے رہے اور جب 20 سال کے ہوئے تو زندگی گذارنے کیلئے انھوں نے شہر کا رخ کیا ۔ یہاں مختلف نوعیت کے کام کرنے کے بعد آخرکار ایک گیاریج میں نوکری ملی جہاں انھوں نے سخت محنت اور جانفشانی سے کام کیا۔ اس دوران وہ اپنی کمائی کی رقم کا کچھ حصہ گھر بھیجتے اور باقی رقم کی بچت کرتے ۔ اُن کی والدہ جو موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا تھیں اس کا حسین مومن پر گہرا اثر ہوا اور انھوں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ گاؤں میں ایک ہاسپٹل قائم کیا جائے ۔ چنانچہ ساری رقم انھوں نے اس مقصد کے لئے لگادی۔ انھیں کئی مشکل مراحل سے گذرنا پڑا اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہاسپٹل بند ہوچکا تھا، تاہم اُن کے جذبہ کو دیکھ کر ایک ڈاکٹر نے رضاکارانہ خدمات انجام دینے کیلئے آمادگی ظاہر کی اور پھر 25 بستروں کا یہ ہاسپٹل مریضوں کی خدمات انجام دینے میں مصروف ہوگیا ۔