گوہاٹی22 اگست (سیاست ڈاٹ کام)چھ افراد بشمول مقامی بی جے پی لیڈر کو مبینہ طور پر ایک نا بالع لڑکی کی عصمت ریزی اور غیر قانونی فروخت کے معاملہ میں گرفتار کیاگیا۔ دریں اثناء کوتوالی پولیس اسٹیشن انچارج بھوپیندر سنگھ نے بتایا کہ ملزمین کو اُجین روڈ پر معمول کی چیکنگ کے دوران اس وقت گرفتار کیا گیا جب پولیس نے شبہ کی بنیاد پر ان کی کار کو روکا اور اس میں ایک 15 سالہ لڑکی کو پایا جو بادی النظر میں کار میں بیٹھے ہوئے چار افراد کے چنگل میں پھنسی ہوئی تھی۔ اسی لڑکی نے بعدازاں پولیس کو بتایا کہ اسے ایک شخص بہلا پھسلا کر ممبئی لے گیا تھا اور وعدہ کیا تھاکہ وہاں اسے اچھی ملازمت دلوائی جائے گی لیکن وہاں پہنچتے ہی کچھ لوگوں نے اس کی عصمت ریزی کردی ۔ بعدازاں لڑکی کواندور لایا گیا وہاں راکیش نامی ایک دلال نے ممتاز نامی ایک خاتون دلال کو فروخت کردیا ۔ ممتاز نے بعدازاں اس لڑکی کو 4000 روپئے میں چار افراد کو فروخت کردیا جن کی شناخت دیواس میونسپل کارپوریشن کے ریونیو انسپکٹر صابر،کارپوریشن کا ایک اور ملازم روہت ،بی جے پی لیڈر حامد اور یعقوب شیخ کی حیثیت سے ہوئی ۔
14 سالہ لڑکی کی عصمت ریزی
بہرائچ 22 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ایک 14 سالہ لڑکی کی مبینہ طور پر ایک نوجوان نے اس وقت عصمت ریزی کی جب وہ کھیتوں میں کام کررہی تھی ۔ پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ نانپاڑہ کوتوالی علاقہ میں رونما ہوا جہاں 22 سالہ ملزم ٹنکو نے لڑکی کی اس وقت عصمت ریزی کی جب وہ کھیتوں میں اکیلی کام کررہی تھی۔ ملزم نے لڑکی کی جانب سے مزاحمت کرنے پر چاقو نکال لیا جس کے بعد آس پاس کے لوگ وہاں جمع ہوگئے اور ملزم کو پکڑ لیا ۔ متاثر لڑکی کو کمیونٹی ہیلت سنٹر لیجایا گیا جہاں اس کے گلے پر آئے چاقو کے زخم کا علاج کیا گیا لیکن اس کی حالت تشویشناک بتائی گئی ۔