نائیجیریا: بوکو حرام کی اہم راستوں کی ناکہ بندی کا آغاز

نائیجر۔ 11؍مئی (سیاست ڈاٹ کام)۔ لڑکیوں کو رہا کرانے کے لئے نائجیریا کے دارالحکومت ابوجہ میں ’ہماری لڑکیوں کو واپس لاؤ‘ نام سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ شمال مشرقی نائیجیریا میں تازہ ترین صورتِ حال کے حوالے سے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے گزشتہ ماہ سینکڑوں لڑکیوں کے اغواء کی جائے وقوع کے قریب ایک اہم پُل تباہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ چند روز میں کسی پُل پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ اغواء کی جانے والی طالبات کی رہائی کے لئے چیبو شہر میں مظاہرے ہوئے جن میں بوکو حرام کی حراست سے بچ کر نکل آنے والی بعض لڑکیاں بھی شامل ہوئیں۔ مظاہروں میں شامل ان لڑکیوں سے جب بات کی گئی تو ان میں سے ایک نے بتایا ’’اغواء کرنے والے شدت پسندوں نے کہا کہ اگر ہم نے فرار ہونے کی کوشش کی تو وہ گولی مار دیں گے،

لیکن میں کودکر بھاگ گئی اور ایک درخت کے نیچے رات بھر چھپی رہی‘‘۔ نائیجیریا کے بعض شہریوں کا خیال ہے کہ حکومت نے شروع میں اس مسئلہ کے حل کے لئے سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ احتجاج کا مقصد نائیجیریا حکومت اور بین الاقوامی سطح پر دباؤ بنانا ہے۔ اس مہم میں شامل ایک شخص حدیثہ عثمان نے کہا ’’پوری دنیا کی توجہ اس طرف دلانے کی ضرورت ہے کہ 200 طالبات کے اغواء پر خاموشی قابل قبول نہیں۔ احتجاج کے ذریعہ ہم حکومت کو اس کے رویے پر پھر سے سوچنے کے لئے مجبور کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ نائیجیریا میں منعقد ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کی میٹنگ میں ہر کوئی اغواء ہونے والی طالبات کے بارے میں بات کررہا ہے۔ فورم میں اس ضمن میں دو منٹ کی خاموشی بھی منائی گئی۔ نائیجیریا افریقی براعظم کی سب سے بڑی اقتصادی قوت ہے۔