کابل۔ 17 جون (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان کے دونوں صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی ہندوستان کے اچھے دوست ہیں اور ہندوستان چاہتا ہے کہ نئے صدر افغانستان کے ساتھ قریبی تعاون کرے۔ ہندوستانی سفیر برائے افغانستان امر سنہا نے کہا کہ نئی حکومت کی تشکیل کے بعد ہندوستان کے ساتھ افغانستان کے تعلقات مزید مستحکم ہوجائیں گے۔ دونوں امیدواروں سے جو بھی افغانستان کا نیا صدر ہو، وہ ہندوستان کا سچا دوست ثابت ہوگا۔ افغانستان کے بارے میں ہماری سیاسی پالیسی شفافیت کے ساتھ اختلافات کا اظہار اور نئی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون پر مبنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہند۔ افغانستان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ ہندوستان کے سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک قریبی دفاعی شراکت دار ہیں۔ صدر حامد کرزئی وزیراعظم ہندوستان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرچکے ہیں۔ وزیراعظم ہند کہہ چکے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات قریبی ہیں۔ صدر کرزئی بھی ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے عوام کی قربت،
دونوں ممالک کے تعلقات کے استحکام کی بنیادی وجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے صدر افغانستان کی تقریب حلف برداری میں ہندوستان کی شرکت سفر کی مناسب سہولتوں پر منحصر ہوگی۔ 14 جون کو صدارتی انتخابات کے نتائج سے واضح ہوجائے گا کہ سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ ملک کے آئندہ صدر بنیں گے یا عالمی بینک کے سابق ماہر معاشیات اشرف غنی۔ امر سنہا نے کہا کہ دونوں اُمیدوار بھی ہندوستان کے قریبی دوست ہیں، اس لئے کوئی بھی آئندہ صدر افغانستان منتخب ہو ، دونوں ممالک کے تعلقات کا استحکام یقینی ہے۔ ہند۔ افغان۔ پاکستان تعلقات کے بارے میں انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ تینوں ممالک کے اچھے تعلقات ، تینوں ممالک کو پُرامن اور اچھے پڑوسیوں کی طرح زندگی گزارنے کا موقع فراہم کریں گے۔ دریں اثناء افغانستان میں اغوا شدہ امدادی کارکن پریم کمار کے بارے میں ہندوستان کے سفیر نے یقین ظاہر کیا کہ وہ بالکل محفوظ ہیں اور انہیں یقین ہے کہ انہیں جلد ہی بچا لیا جائے گا۔