انتخابات کے اختتام کیساتھ بقیہ ریاست کیلئے دارالحکومت کے انتخاب پر تو جہ مرکوز
حیدرآباد۔ 11 مئی (پی ٹی آئی) سیما۔ آندھرا میں رائے دہی کے اختتام کے ساتھ اب توجہ بقیہ ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت کی نشاندہی پر مرکوز کی جارہی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مقررہ ماہرین کی کمیٹی نے سیما۔ آندھرا یعنی رائلسیما اور ساحلی آندھرا میں دارالحکومت شہر کیلئے مختلف مقامات کے حالات کی اسٹڈی کیلئے فیلڈ دورے کرنا شروع کردیا ہے۔ اس کمیٹی کے ارکان نے وشاکھاپٹنم اور راجمندری شہروں کا دورہ کیا ہے اور توقع ہے کہ دیگر مقامات جیسے وجئے واڑہ، گنٹور، کرنول اور تروپتی کے علاوہ دوسرے مقامات کا بھی دورہ کریں گے۔ ساحلی آندھرا میں وشاکھاپٹنم، راجمندری، وجئے واڑہ، گنٹور، انگول اور رائلسیما میں کرنول، تروپتی کو مابعد تقسیم بقیہ ریاست کے نئے دارالحکومت کیلئے موزوں سمجھا جارہا ہے۔ مختلف گروپس کی جانب سے ان کے شہر کو بقیہ ریاست کا دارالحکومت بنانے کیلئے مطالبہ کیا جارہا ہے۔ دو دن قبل ماہرین کی کمیٹی جب وشاکھاپٹنم پہونچی تھی تو وہاں ایک گروپ کی جانب سے اس سلسلے میں مظاہرہ کیا تھا۔ سابق وزیر ٹی جی وینکٹیش نے جنہوں نے انتخابات سے عین قبل تلگو دیشم پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، کرنول کو دارالحکومت بنانے کی تائید کی ہے۔ کرنول 1956ء میں آندھرا پردیش کے قیام سے قبل آندھرا اسٹیٹ کا دارالحکومت تھا۔ سیاسی مبصرین نے کہا کہ سیما۔ آندھرا سے اُڑیسہ، ٹاملناڈو اور کرناٹک کی سرحدیں ملتی ہیں اور ایک ایسے دارالحکومت شہر کی نشاندہی کرتا ہے جو ریاست کے تمام مقامات سے مساوی فاصلے پر ہو اور ضروری انفراسٹرکچر کے ساتھ ہو، ایک مشکل کام ثابت ہوسکتا ہے۔