نئی نسل میں جہیز کی لعنت پر شعور بیداری مہم کی ضرورت

حیدرآباد ۔ 20 ۔ اگست : ( پریس نوٹ ) : بزم عثمانیہ جدہ کے زیر اہتمام سیاست گولڈن جوبلی ہال میں عصر حاضر کے سلگتے ہوئے موضوع ’ جہیز ایک لعنت ‘ کے زیر عنوان مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا ۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے صدارت کی ۔ جب کہ مولانا محمد اعظم علی صوفی قادری نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے اس سماجی موضوع کے مذاکرہ میں شرکت کی ۔ مذاکرہ کا آغاز شام 6 بجے مولانا محمد قاسم صدیقی تسخیر استاد جامعہ نظامیہ کی تقریر سے ہوا ۔ انہوں نے اپنی تقریر کے ذریعہ جہیز کو ہندوستانی سماج سے مسلم معاشرہ میں اثر کرنے والے زہر سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ درحقیقت اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے لیکن ہندوستانی معاشرہ میںجہیز کا مطالبہ شدید ہونے کی وجہ سے کئی غریب لڑکیاں بن بیاہی گھر میں بیٹھی ہیں ۔ اگر شادیاں منعقد ہو بھی جاتی ہیں تو معاشرہ میں جہیز کے بڑھتے ہوئے نفوذ کی وجہ سے طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے امکانات کی وجہ سے مسلم معاشرہ میں اخلاقی گراوٹ کے آثار فروغ پا رہے ہیں ۔

انہوں نے خاص طور پر مسلم معاشرہ میںجہیز کی بڑھتی ہوئی لعنت کی وجہ سے مسلم لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں سے شادی اور مسلم معاشرہ میں یوروپی معاشرہ کے بڑھتے ہوئے فیشن سے بے شمار سماجی برائیاں پھیل رہی ہیں ۔ جس کے روک تھام کے لیے روزنامہ سیاست کی خدمات کو انہوں نے تحریک کا درجہ دیتے ہوئے ستائش کی اور اس تحریک کو عوام میں مقبول بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ جامعہ نظامیہ کے مفتی سید صادق محی الدین فہیم نے اپنے خطاب کے دوران یہ بتایا کہ عام طور پر مسلم لڑکیوں کی شادی کے چند وقفہ کے بعد ساس ، نند اور دیگر سسرال والوں کے بڑھتے ہوئے ہراسانی کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ آج کے مسلم معاشرے میں خدا کے خوف اور آخرت میں جواب دہی کا تصور حد سے زیادہ کم ہوتا جارہا ہے ۔ جس کی وجہ سے مسلم معاشرہ تیز رفتاری کے ساتھ جہیز کی لعنت کا شکار ہو کر خدا اور رسول کی ناراضگی میں مبتلا ہوتا جارہا ہے ۔ انہوں نے مسلم نوجوانوں اور لڑکیوں میں اسلامی شعار کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس لعنت کی روک تھام کے اسباب پیدا کئے جائیں ۔ انہوں نے یوروپی تہذیب کی نقالی کو بھی جہیز کی لعنت کا ایک ذریعہ بتایا اور ثابت کیا کہ ترقیات کی رو میں تیزی سے بہنے کے لیے بھی جہیز کے مطالبات کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے ۔

انہوں نے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں دینداری عام کرنے کے لیے دعا فرمائی ۔ پروفیسر مجید بیدار سابق صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ وعظ ونصیحت کے طریقے اب نئی نسل پر کارکرد نہیں ہورہے ہیں ۔ جہیز کی لعنت کے خاتمے کے لیے انہوں نے عصری ذرائع ترسیل کو اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ ہر شادی خانہ میں جہیز کی لعنت اور اس کی خرابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے سی ڈیز تیار کر کے آنے والے مہمانوں کو دکھائے جائیں تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے علماء اور دانشوروں سے خواہش کی کہ وہ جہیز کی لعنت کے خلاف دل نشین اور متاثر کن سی ڈیز کی تیاری کا اہتمام کر کے انہیں مجمع میں دکھانے کا اہتمام کریں ۔ مولانا اعظم علی صوفی نے اپنی صدارتی خطاب میں سیرت نبویؐ کے گوشوں سے ثابت کیا کہ جہیز لینا اور دینا کسی لحاظ سے بھی اسلامی شعار نہیں ۔

انہوں نے دلائل سے ثابت کیا کہ دین داری کو ہی عقد کا لازمی جز قرار دیا گیا ہے ۔ آج کا مسلم معاشرہ دین داری کے بجائے عقد کے لیے دوسرے ذرائع استعمال کررہا ہے ۔ اسی وجہ سے جہیز کی لعنت میں اضافہ ہورہا ہے ۔ انہوں نے خاص طور پر عرب ممالک کے باشندوں کی مثال دے کر سمجھایا کہ وہاں شادی کے تمام مصارف نوشہ کو برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ ہندوستان میں زندگی گذارتے ہوئے مقامی مذاہب کے طریقے اختیار کرتے ہوئے یہاں کے مسلمانوں نے عقد کے لیے جہیز کو لازمی قرار دیا ہے جو اسلامی اعتبار سے کسی لحاظ سے بھی جائز نہیں ۔ جناب زاہد علی خاں مدیر سیاست نے بزم جدہ کی جانب سے مذاکرہ کے اہتمام کو فال نیک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی محفلوں سے نئی نسل میں جہیز کے خلاف شعور پیدا کرنے میں مدد ملے گی ۔ جناب ہادی رحیل کی نظامت اور بزم عثمانیہ جدہ کے جنرل سکریٹری عارف قریشی کے شکریہ پر ’ جہیز کی لعنت ‘ سمینار کا اختتام عمل میں آیا ۔۔