دوحہ۔ 15؍جون (سیاست ڈاٹ کام)۔ قطر نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ایک اجلاس میں جو کل جنیوا میں منعقد کیا گیا کہا کہ وہ ملک کی اسپانسرشپ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی تیاریاں کررہا ہے۔ خروج کے پرمٹ نظام میں بھی بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جائیں گی۔ کونسل کے 26 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائرکٹر انسانی حقوق وزارت خارجہ شیخ خالد بن جاسم الثانی نے کہا کہ مملکت ایک نئے مسودۂ قانون پر غور کررہی ہے جو داخلے اور رہائش کے قانون برائے تارکین وطن برائے قطر ہوگا
اور اس کی بنیاد کام کے کنٹراکٹس پر ہوگی۔ اجلاس میں خصوصی رابطہ کار برائے انسانی حقوق برائے تارکین وطن فرائنکوئی پریپی اور ان کے حالیہ دورۂ قطر کی رپورٹ پر مباحث منعقد کئے گئے وہ قطر میں مزدوروں کے حالات کا جائزہ لینے کے دورہ پر تھے۔ پریپی نے اپنی رپورٹ میں زور دیا ہے کہ قطر کو اسپانسرشپ اور خروج کے پرمٹ سسٹم کا جائزہ لینا چاہئے اور سفارش کی کہ تارکین وطن مزدوروں کو ٹریڈ یونینوں کے حق دیئے جانے چاہئے۔ رپورٹ میں تارکین وطن کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے بارے میں 14 سفارشات شامل ہیں۔ مملکت قطر نے حال ہی میں اپنے اس ارادے کا اعلان کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جائیں گی تاکہ تارکین وطن کارکنوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے اور انہیں فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ قطر موجودہ خروج پرمٹ نظام کی برخاستگی پر غور کررہا ہے جس کے تحت ملازم کی روانگی کے لئے آجر کی اجازت ضروری ہے۔ نظام کی جگہ نیا خودکار نظام قائم کیا جائے گا جو وزارت داخلہ کے ذریعہ کام کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ روزگار کے معاہدے کے بارے میں یہ قانونی تعلقات کی بھی نگرانی کرے گا جو آجر اور ملازم کے درمیان ہوں گے اور معاہدے کی سرکاری توثیق لازمی قرار دی جائے گی۔ اگر کنٹراکٹ مقررہ مدت کے مطابق ہو تو کارکن کو دوسری جگہ ملازمت حاصل کرنے کا حق ہوگا۔ کنٹراکٹ کی مقررہ مدت کے بعد وہ کسی بھی دوسرے آجر کی ملازمت اختیار کرسکے گا اور اس کے لئے سابق آجر کی اجازت ضروری نہیں ہوگی لیکن اگر معاہدہ غیر معینہ مدت کا ہو تو ملازم معاہدے کی تاریخ سے 5 سال بعد دوسری ملازمت آجر کی اجازت کے بغیر اختیار کرسکے گا۔ الثانی نے کہا کہ قطر ایک جامع اقدام کرتے ہوئے قطر کے قانون محنت میں ترمیم کرے گا تاکہ نئی اصلاحات کے نظام پر عمل آوری کی جاسکے۔
قطر کی جانب سے انہوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار برائاے تارکین وطن کے انسانی حقوق کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے قطر کے اپنے دورہ کی رپورٹ میں قطر کی اقدار معروضیت، مہارت، شفافیت اور بے تعصبی کی ستائش کی ہے۔ کریپی نے باہم رابطہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قطر کے اعلیٰ معیاروں میں ہمہ آہنگی کی تعریف کی
جن سے کارکنوں کو قطر کی موجودہ صورتحال میں تارکین وطن کارکنوں کا زیادہ تناسب قائم ہوگیا ہے۔ قطر کی قومی انسانی حقوق کمیشن کے صدر نشین ڈاکٹر علی بن سمیخ المری نے کریپی کو ان کی رپورٹ کے لئے خصوصی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سفارشات قومی انسانی حقوق کمیٹی اور حکومت کے درمیان جاری تعاون کا اجائزہ لینے میں انتہائی مفید ثابت ہوں گی جو وزارت محنت، وزارت داخلہ اور انسانی حقوق کی تربیت و دستاویزات کی تیاری کے اقوام متحدہ کے مرکز برائے جنوب مغربی ایشیا اور عرب علاقہ کی جانب سے کیا جارہا ہے۔ المری اور کریپی کی ملاقات اجلاس کے دوران علیحدہ طور پر بھی مقرر ہے جس میں دونوں فریقین کے درمیان تعاون میں اضافے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔