اندور 16 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) مدھیہ پردیش میں آج رات پیش آئے ایک حادثہ میں 60 مسافرین کو لیجانے والی ایک خانگی بس دھار ضلع میں مچھلیہ گھاٹ کے قریب ایک گہری کھائی میں گرگئی جس کے نتیجہ میں کم از کم 10 مسافرین ہلاک ہوگئی ۔ مہلوکین میں ایک خاتون اور ایک کمسن بچہ بھی شامل ہے ۔ رات دیر گئے تک زخمیوں اور مہلوکین کی تلاش کا کام جاری تھا ۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب خانگی بس اندور سے راجستھان میں گالیا کوٹ کیلئے جارہی تھی ۔ یہ بس رات 9.15 بجے 150 فیٹ گہری کھائی میں گرگئی ۔ بیشتر مسافرین جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے اندور اور دھار اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں جو خانگی بس سے سفر کر رہے تھے ۔ مسافرین میں دو پولیس اہلکار بھی شامل تھے جو راجستھان کے ضلع ڈونگر پور میں گالیا کوٹ میں کسی مسلم مذہبی تقریب میں شرکت کیلئے جارہے تھے ۔ جائے حادثہ پر موجود ذرائع نے یہ ادعا کیا ہے ۔ اندور کے انسپکٹر جنرل وپن مہیشوری کے بموجب ابتدائی اطلاعات کے بموجب کم از کم 10 مسافرین سمجھا جاتا ہے کہ اس حادثہ میں ہلاک ہوگئے ہیں تاہم ہلاکتوں کی تعداد مزید زیادہ ہوسکتی ہے ۔ زائد از دو درجن مسافرین زخمی ہیں جنہیں آٹھ تا دس ایمبولنس گاڑیوں سے قریبی دواخانوں کو منتقل کیا جا رہا ہے ۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ یہ بس پہاڑی سڑک پر اپنا توازن کھو بیٹھنے کے بعد 150 فیٹ گہری کھائی میں گرپڑی ۔ حادثہ کی اطلاع ملنے پر اعلی انتظامی اور پولیس عہدیدار بشمول دھار کلکٹر جئے شری کیاوت ‘ دھار کے ایس پی راجیش ہنگالکر ‘ جھبوا کے کلکٹر بی چندر شیکھر اور جھبوا ایس پی کرشنا وینی جائے حادثہ کیلئے روانہ ہوگئے ہیں۔ ایس پی دھار راجش ہنگالکر نے بتایا کہ گہرے اندھیرے اور پہاڑی علاقہ ہونے کی بجائے پولیس کی بچاؤ سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے ۔ رات کی وجہ سے زخمی اور مہلوک مسافرین کی تلاش کا کام بھی متاثر ہو رہا ہے ۔ یہ علاقہ دھار ۔ جھبوا سرحد کے قریب واقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زائد از 30 پولیس اہلکاروں کو تلاشی کے کام پر لگایا گیا ہے ۔