م 57 ہزار ایکڑ اوقافی اراضیات پر غیر مجاز قبضے

سابق حکومتوں پر مسلمانوں سے ناانصافی کا الزام ‘ اسمبلی میں ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کا بیان
حیدرآباد۔24نومبر ( سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے واضح طور پر کہا کہ اگرہر کوئی ہمارے ہاتھ ( حکومت کے ) مضبوط کریں اور ہر ایک کا بھرپور تعاون حاصل ہو تو غیر مجاز قبضہ کی گئی وقف جائیداد حاصل کرنے کی ممکنہ کوشش کی جائے گی اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی ترقی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ آج ایوان میں اقلیتی بہبود کے مطالبات زر پر ہوئے مباحث کے دوران ارکان اسمبلی کی جانب سے کئے گئے بعض استفسارات کا جواب دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے تیقن دیا اور کہا کہ 77ہزار ایکڑ زائد اوقافی اراضیات کے منجملہ 57 ہزار ایکڑ سے زائد اراضیات پر قبضے ہوچکے ہیں جبکہ 20ہزار ایکڑ اراضیات پر متولیان و سجادہ نشین اصحاب کے قبضہ میں ہیں ۔ مسٹر محمود علی نے اعتراف کیا کہ سابق حکومتوں میں نہ صرف مسلم اقلیتوں کے ساتھ ہر سطح پر ناانصافیاں کی گئی بلکہ مسلمانوں کی ہزاروں ایکڑ وقف اراضیات کو فروخت کردیا گیا جبکہ سابق میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے نہ صرف تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے زبردست جدوجہد کی تھی بلکہ خود موجودہ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ بھی جدوجہد میں شریک تھے اور احتجاج بھی کیا تھا ۔ لہذا کے چندر شیکھر راؤ وقف اراضیات کو واپس حاصل کرنے اور ان وقف اراضیات کے مکمل تحفظ سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں ۔ علاوہ ازیں تلنگانہ میں مسلمانوں سے اب تک جو بھی ناانصافیاں ہوئیں ان کو ختم کرنے اور مکمل انصاف دلانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت بہت جلد وقف بورڈ کو مستحکم بنانے کے اقدامات کرے گی اور سابق میں جو غلطیاں ہوئی ہیں ان کا اعادہ ہونے نہیں دیا جائے گا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے مسلم طلبہ کے اسکالرشپس و فیس وغیرہ کیلئے بجٹ میں 500 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو مسابقت کرنے کے قابل بنانے کیلئے اسٹیڈی سرکلس کو مستحکم بنانے زیادہ سے زیادہ رقومات مختص کی گئیں ۔ تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا تذکرہ کرتیہ وئے مسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ سابق حکومتوں نے تلنگانہ کے ضلع کھمم میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف فراہم نہیں کیا تھا لیکن تلنگانہ حکومت گذشتہ دنوں ’’ یوم اقلیت‘‘ کے موقع فراہم کرنے کا اعلان کرچکی ہے ۔ اس طرح ریاست تلنگانہ کے تمام اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف عطا کرتے ہوئے اس پر موثر عمل آوری کیلئے حکومت اقدامات کرے گی ۔ انہوں نے ریاست تلنگانہ میں مسلم قبرستانوں ‘ عیسائی قبرستانوں اور دیگر طبقات کے ہندو قبرستانوں کی کمی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر ضلع میں مسلم قبرستان کیلئے اراضی فراہم کرنے کیلئے حکومت ہر ممکنہ کوشش کرے گی ۔
میناریٹی سب پلان کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت تلنگانہ حکومت میناریٹی سب پلان کو روبہ عمل لانے کے علاوہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے دیئے جانے والے تیقنات اور کئے جانے والے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے موثر اقدامات کرے گی ۔ تاہم اس کے لئے تمام کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہے ۔