نئی دہلی۔12مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) میڈیا کی مہم جوئی کا اثر ججس پر ہوتا ہے اور غیر ارادی طور پر وہ دباؤ میں آجاتے ہیں۔ دہلی ہائیکورٹ نے 16ڈسمبر اجتماعی عصمت ریزی واقعہ پر متنازعہ دستاویزی فلم نشر کئے جانے کے متعلق ان احساسات کا اظہار کیا ۔ جسٹس بی ڈی احمد اور جسٹس سنجیو سچدیو پر مشتمل بنچ نے کہا کہ بادی النظر میں وہ ڈاکیومنٹری دکھانے کے مخالف نہیں ہیں لیکن مجرمین کی اپیل پر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہونے کے بعد اسے ریلیز کیا جانا چاہیئے ۔ میڈیا کی کسی معاملہ میں مہم جوئی ججس پر اثرانداز ہوتی ہے ۔ نادانستہ طور پر ایک دباؤ پیدا ہوتا ہے اور اس کا اثر ملزم /مجرم کو دی جانے والی سزا پر بھی ہوتا ہے ۔ بنچ کا یہ احساس تھا کہ ڈاکیومنٹری ’’ نظام انصاف پر اثرانداز‘‘ ہوسکتی ہے
لیکن عدالت نے کوئی عبوری احکامات جاری کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ موزوں چیف جسٹس بنچ ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی ۔ عدالت نیکہا کہ اگر یہ معاملہ راست ہم سے رجوع کیا جاتا تو ہم تمام مواد پیش کرنے کی ہدایت دیتے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ امتناع کیوں برخواست کیا جائے ‘ لیکن یہ معاملہ روسٹر بنچ چیف جسٹس سے ہم تک پہنچا ہے ‘ لہذا روسٹر بنچ کو ہی اس کا فیصلہ کرنے دیجئے ۔ عدالت کا یہ احساس تھا کہ ڈاکیومنٹری دکھانے کی اجازت سے عصمت ریزی کے ایک مجرم مکیش کے مقدمہ پر اثر ہوسکتا ہے ۔اسے سزا سنائے جاتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہیکہ اپنی غلطی پر وہ ندامت محسوس کررہا ہے یا نہیں ۔ لہذا سپریم کورٹ کے فیصلہ تک کیوں نہ انتظار کیا جائے ۔ مرکزی حکومت کی پیروی ایڈوکیٹ مونیکا ارورہ نے کی اور ڈاکیومنٹری نشر کرنے کی مخالفت کی ۔