میرے بیٹے کے ’’جہادی جان‘‘ ہونے کے کوئی ثبوت نہیں

کویت سٹی۔ 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ’’جہادی جان‘‘ کے والد نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کے کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ ان کا بیٹا دولت اسلامیہ میں ’’جلاد‘‘ کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ اس تعلق سے صرف افواہوں کا بازار گرم ہے۔ جسیم ایموازی نے کویتی اخبار ’’القبس‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں ان کے بیٹے کے متعلق جو بھی خبریں گشت کررہی ہیں، وہ غلط ہیں۔ ویڈیو فوٹیج کے ذریعہ ایسی جھوٹی خبروں کو پھیلایا جارہا ہے جس میں واضح طور پر یہ کہا جارہا ہے کہ ملزم اُن کا بیٹا محمد ہے جسے مبینہ طور پر داعش (دولت اسلامیہ) کا جلاد (سزائے موت کی تعمیل کرنے والا) قرار دیا جارہا ہے۔ اخبار نے بتایا کہ اس نے کویت میں پیدا ہوئے محمد ایموازی کے والد سے ایک خفیہ مقام پر بات چیت کی ہے جو ان کا پہلا میڈیا انٹرویو کہا جارہا ہے یعنی ان کے بیٹے پر یہ الزامات عائد کرنے کے بعد کہ اس نے کئی مغربی یرغمالوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے ’’جلاد‘‘ کا کام انجام دیا تھا۔ ایموازی کے والد نے روزنامہ کو بتایا کہ وہ کویتی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کے تعلق سے گشت کرنے والی بیشتر خبریں سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ انہوں نے چونکہ یہ محسوس کرلیا ہے کہ لوگ ان افواہوں کو سچ سمجھ رہے ہیں لہذا انہوں نے اپنے دفاع کے لئے وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں جو اس بات کو غلط ثابت کردے گا۔

دوسری طرف وکیل سالم الحشاش نے بتایا کہ اس کے موکل کے ساتھ وزآرت داخلہ کی جانب سے تین گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی گئی اور بعدازاں اسے رہا کردیا گیا، اس کے خلاف کوئی ثبوت سامنے نہیں آئے تھے۔ حشاش نے کہا کہ برطانیہ میں بھی ارکان خاندان کے دفاع کے لئے ایک وکیل کا تقرر عمل میں آیا ہے۔ محمد ایموازی کی پیدائش کویت میں ایک ایسے خاندان کے گھر ہوئی جن کا اصلی وطن ’’عراق‘‘ تھا۔ 1993ء میں اس کے والدین برطانیہ منتقل ہوگئے کیونکہ انہوں نے کویتی شہریت حاصل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے لہٰذا مایوس ہوکر انہوں نے برطانیہ کو نقل مکانی کرلی البتہ ایموازی نے متعدد بار کویت کا دورہ کیا تاہم آخری بار کویت کا دورہ اس نے 18 جنوری تا 26 اپریل 2010ء کے درمیان کیا تھا۔ ایک سال بعد اسے کویت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ برطانیہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کی تحقیقات کے دوران ایموازی کا نام بھی مشتبہ افراد میں موجود تھا۔