میرٹھ 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) شہر میں آج ایک نوجوان کی موت کے بعد جس کے سر میں 10 مئی کی بین طبقاتی جھڑپ کے دوران گولی لگی تھی،موت کے بعد کشیدگی میںاضافہ ہوگیا ۔ 18 سالہ شوبھم رستوگی میڈیکل کالج ہاسپٹل میں زیر علاج تھے جہاں وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔وہ مسجد کے قریب تیرگراں علاقہ میں پانی کا ایک اسٹال قائم کررہے تھے جبکہ انہیں گولی لگی تھی۔ دو گروہوں کے درمیان سنگباری ہوئی تھی بعدازاں ایک دوسرے پر فائرنگ کی گئی تھی ۔راستوگی کی آخری رسومات پولیس ملازمین کی موجودگی میں انجام دی گئیں۔ قدیم شہر کے علاقہ میں ان کی موت کے بعد کشیدگی پھیل گئی تاہم صورتحال پولیس کی تعیناتی کے بعد قابو میں آگئی ۔ شہر میں پولیس طلایہ گردی میں اضافہ کردیا گیا ۔ اس کے علاوہ آر اے ایف اور پی اے سی کا عملہ تعینات کردیا گیا ۔ پولیس عہدیدار کشیدہ حالات کے علاقہ کے قریب قیام کئے ہوئے ہیں۔ حکومت یو پی نے رستوگی کے ورثاء کو 15 لاکھ روپئے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ۔ رستوگی کے علاوہ جھڑپوں میں دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ۔ جھڑپوں کے الزام میں چھ افراد گرفتارکرلئے گئے اور ڈھائی ہزار افراد کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ۔