بنگلورو۔14 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ ( داعش) سے مہدی مسرور بسواس کے امکانی روابط کی تحقیقات کی جارہی ہے ۔ مبینہ ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے سلسلہ میں بنگلور کے اعلیٰ پولیس عہدیدار نے کہا کہ مہدی مسرور کی داعش نظریہ سے وابستگی اور دوست ملکوں کے خلاف عوام کے ذہنوں میں انتشار پیدا کرنے کی تحقیقات کی جارہی ہے ۔ تحقیقاتی ٹیم ہندوستان میں کسی مقامی رابطے یا سلیپرسیل کی موجودگی کی بھی تحقیقات کرے گی ۔ وسواس کو کل گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں پانچ دن کیلئے پولیس تحویل میں دیا گیا ہے ۔ اسی دوران بنگلور پولیس کو مہدی مسرور کی گرفتاری کے سلسلہ میں ایک دھمکی وصول ہوئی ہے ۔ بنگلور سی سی بی پولیس نے مسرور کو پانچ دن کی تحویل میں لیا ہے ۔ ڈی سی پی کرائم ابھشیک گوئل کو وسواس کی گرفتاری کے ساتھ ہی ایک دھمکی آمیز پیام موصول ہوا ۔ ٹوئیٹر پر موصول ہونے والے اس پیام کو گوئل نے خاص اہمیت نہیں دی ہے ۔ داعش کے ٹوئیٹر نظریہ کو پھیلانے والے کی بنگلور میں موجودگی کی تحقیقات کی جارہی ہے ۔ بنگلور پولیس نے برطانوی چینل 4نیوز کے انکشاف کے بعد مہدی کی تلاش شروع کی تھی ۔ پولیس نے کل کہا تھا کہ بسواس نے موافق جہاد ٹوئیٹر چلانے کا اعتراف کیا ہے ۔ 24سالہ بسواس کو تعزیرات ہند کی دفعہ 125 کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ۔گوئل نے کہا کہ بسواس مغربی بنگال سے تعلق رکھتے ہے ‘ ان کے ٹوئیٹر پر 17ہزار فالوورس ہیں۔