ممبئی ۔ 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بمبئی ہائیکورٹ نے مہاراشٹرا تحفظ حیوانات (ترمیمی) قانون کے نفاذ کی اصل تاریخ کے بارے میں آج وضاحت طلب کی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت نرگاؤ (بیل اور کھلگوں) کے ذبیحہ پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ جسٹس وی ایچ کناڈے اور جسٹس اے آر جوشی نے حکومت مہاراشٹرا کو کل جواب داخل کرنے کی ہدایت کی، جس میں یہ واضح صراحت کی جائے کہ آیا کس طرح سے نیا قانون نافذالعمل ہوا ہے۔ یہ وضاحت اس وقت طلب کی گئی جب ایک سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچھالہ نے ممبئی سب اربن بیف ڈیلرس ویلفیر اسوسی ایشن کی طرف سے رجوع ہوتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے اعلامیہ کی اجرائی سے پہلے ہی پولیس نے بیف ڈیلرس اور تاجرین کے قبضہ سے مویشیوں کو ضبط کرلیا تھا۔ ایڈوکیٹ مچھالہ کے مطابق ہائیکورٹ نے بھارتیہ گوونش رکھشنا سنوردھان پریشد کی طرف سے مفاد عامہ کی درخواست دائر کرتے ہوئے قانون کے نفاذ کی درخواست کی تھی جس پر عدالت نے سٹی پولیس کمشنر اور شہری ادارہ کے سربراہ کو نرگاؤ کے ذبیحہ کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی۔ مچھالہ نے استدلال پیش کیا کہ ’’بیف ڈیلرس اسوسی ایشن کی جانب سے اس قانون کے خلاف بمبئی ہائیکورٹ سے رجوع ہونے کے دو دن بعد حکومت نے کہا تھا کہ اسنے سرکاری گزٹ میں ہنوز اعلامیہ جاری نہیں کیا ہے، صرف 9 مارچ کو حکومت نے عدالت کو مطلع کیا تھا کہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ لیکن 3 مارچ کے حکمنامہ کے بعد ہی پولیس نے بیف ڈیلرس سے مویشی ضبط کرلیا تھا۔ ’’اگر اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا تھا تو پولیس بھی کارروائی نہیں کرسکتی تھی‘‘۔ ان کے اس استدلال پر عدالت نے حکومت سے تاریخ کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔