مکہ میں ’مقابلہ حُسن ‘ منعقد کرانے کی کوشش ناکام، خواتین گرفتار

ریاض۔ 15 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) سعودی عرب میں اسلامی قوانین کی عمل داری کی وجہ سے معاشرہ بہت سی سماجی برائیوں سے محفوظ ہے مگر بعض اوقات شر پسند عناصر کی غیر قانونی حرکتیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں ، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے معاشرے میں فساد پھیلانے والی ہر کوشش کو فوری کاررروائی کرکے ناکام بنا دیتے ہیں۔ ’العربیہ ‘ کے مطابق حال ہی میں کچھ خواتین نے مکہ معظمہ کے ایک شادی ہال میں ’’ملکہ حسن مکہ‘‘کے عنوان سے خواتین میں ایک مقابلہ حسن منعقد کرانے کی کوشش کی تاہم مذہبی پولیس محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے فوری کارروائی کرکے اسے ناکام بنا دیا اور اس غیر قانونی حرکت میں ملوث کئی خواتین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پچھلے چند روز سے مکہ مکرمہ گورنری میں جعلی مقابلہ حسن کے بارے میں چہ میگوئیاں جاری تھیں۔ اسی اثناء میں کچھ شہریوں نے پولیس کو بھی ایک درخواست کے ذریعے مطلع کیا کہ سوشل میڈیا پر’’ملکہ حسن مکہ‘‘کے عنوان سے ایک مہم چلائی جا رہی ہے جس میں 17 سے 27 برس کی لڑکیوں کو مفت رجسٹریشن کی پیشکش بھی کی جا رہی ہے۔ پولیس نے اس کی تحقیقات شروع کی تو معلوم ہوا کہ مقابلہ حسن منعقد کرنے کیلئے شہر میں ایک شادی ہال بُک کرا رکھا تھا ۔

اخبار ’المدینہ‘نے بھی اس کی تفصیلات جاری کی ہیں جن میں بتایا ہے کہ جعلی مقابلہ حسن کی چرچا سوشل میڈیا پر جاری رجسٹریشن مہم سے اٹھا۔ یہ مقابلہ شہر کے ایک بڑے شادی ہال میں منعقد کیا جانا تھا۔ جس میں ملکہ حسن منتخب ہونے والی دوشیزہ کو انعام میں ایک سونے کی انگشتری اور دو ہار پہنائے جانے تھے۔شادی ہال کے مالک نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اور ہال کی انتظامیہ میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں کہ خواتین یہاں کیا کرنا چاہتی تاہم انہوں نے یہ کہہ کر شادی ہال بک کرایا تھا کہ وہ ایک تقریب منعقد کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے تقریب منعقد کئے جانے سے قبل ہی پولیس نے کارروائی کرکے مبینہ طور پر مقابلہ حسن منعقد کرانے والی کئی خواتین کو حراست میں لے لیا ہے جن سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔ دوران تفتیش انہوں نے اعتراف کیا کہ شادی ہال کو مقابلہ حسن کے انعقاد کے لئے بک کیا گیا تھا۔