مکہ مسجد بم دھماکہ کے ملزمین کو باعزت بری کرنا ملک کیلئے سنگین خطرہ

جنرل سکریٹری سیول لبرٹیز مانیٹرنگ کمیٹی لطیف محمد خان کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 21 اپریل(سیاست نیوز)مکہ مسجد بم دھماکہ کیس کے ملزمین کی برات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیول لبرٹیز مانٹیرینگ کمیٹی کے ذمہ داران نے کہاکہ عدالتی کاروائی اور فیصلہ کے بعد بم دھماکہ کیس کے متاثرین کے دلوں میں احساس کمتری پیدا ہوگئی ہے کیونکہ جن لوگوں پر سالوں تک مذکورہ بم دھماکہ کے ملزمین کے طو رپر مقدمہ چلا اور پھر اچانک ایسے کونسی صورت حال پیدا ہوگئی ہے کہ انہیں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے باعزت بری کردیا۔آج یہاں حیدرآباد میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سکریٹری سی ایل ایم سی لطیف محمد خان نے کہاکہ گیارہ سال قبل پیش آئے مکہ مسجد بم دھماکہ کے ملزمین کو عدالت سے بری کردیاجانا ملک کے لئے کسی سنگین خطرے سے کم نہیںہے۔ انہوں نے کہاکہ سوامی اسیما نند نے خود اس بات کااعتراف کیاتھا کہ وہ راست طور پر مکہ مسجد بم دھماکہ میںملوث ہے اس کے باوجود اسیما نند سمیت دیگر تمام ملزمین کو بری کردیاگیا جو آنے والے دنوں میں بی جے پی کی انتخابی مہم میںبھی حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عدالت کے فیصلے کے سبب ان تمام لوگوں کے جذبات کے ٹھیس پہنچی ہے جنھیںمکہ مسجد بم دھماکہ میںپھنسانے کاکام کیاگیا تھا۔ لطیف محمد خان نے کہاکہ مکہ مسجد بم دھماکہ بظاہر ایک عبادت گاہ کے اندر پیش آیا واقعہ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ بم دھماکہ ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی روداری کو ختم کرنے کی ایک سازش کا بڑا حصہ ہے جس کے متعلق کسی بھی قسم کی کو تاہی ملک کے امن وسکون کو متاثر کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ واقعہ پر جوابدہی کے بجائے این آئی اے پبلک پراسکیوٹر کو قصور وار ٹھرارہی ہے تو فیصلہ کے فوری بعد متعلقہ جج اپنا استعفیٰ پیش کردیتا ہے‘ تو پبلک پراسکیوٹر سی بی آئی کو قصور وار ٹھرارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سی بی آئی کا دعوی ہے کہ مقامی پولیس نے کیس کو کمزور بنادیا ہے۔ لطیف محمد خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پرفوری حرکت میںآتے ہوئے معاملہ کو عدالت اعلی سے رجوع کرے ۔ انہو ںنے چیف جسٹس اے پی ہائی کورٹ سے بھی مطالبہ کیاکہ وہ مکہ مسجد بم دھماکہ کے متعلق این آئی اے کی خصوصی عدالت میںسنائے گئے فیصلے پر روک لگاتے ہوئے کیس کی از سر نو سنوائی کے احکامات جاری کرے تاکہ مکہ مسجد بم دھماکہ کیس کے فیصلے کے متعلق ملک کی عوام کے اندر پائے جانے والے عدم اطمینان کو دور کیاجاسکے۔