حکومت کے احکامات بھی اکارت ثابت، اقلیتی بہبود کے دفتریت کی تساہلی، سیکوریٹی بھی تنخواہوں کے منتظر
حیدرآباد۔/14 مارچ، ( سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے مکہ مسجد اور شاہی مسجد باغ عامہ کے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے بجٹ کی اجرائی کے 15دن گذرنے کے باوجود دفتریت کے تساہل کے سبب ملازمین ابھی بھی 3 ماہ کی تنخواہ سے محروم ہیں۔ کسی بھی معاملہ میں صرف حکومت کی جانب سے بجٹ کی منظوری کافی نہیں بلکہ اس کے بعد دفتریت اسے جلد یا تاخیر میں تبدیل کرسکتی ہے۔ کچھ یہی معاملہ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کے ساتھ دیکھا جارہا ہے۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے 15دن میں تنخواہوں کی اجرائی کے سلسلہ میں دفتری کارروائی کی تکمیل نہیں کی جس کے سبب آج تک بھی ڈسمبر تا فبروری تنخواہیں ادا نہیں کی جاسکیں۔ حکومت نے 26فبروری کو دونوں مساجد کیلئے 42لاکھ روپئے جاری کئے تھے۔ آج جب تنخواہوں کی ادائی کے مسئلہ پر ملازمین سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے شکایت کی کہ بجٹ کی اجرائی کے باوجود متعلقہ حکام نے مستعدی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کے نتیجہ میں وہ ابھی تک تنخواہیں حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اقلیتی بہبود کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ تنخواہوں کے سلسلہ میں بلز کو منظوری دی جاچکی ہے اور اندرون دو یوم تنخواہیں ادا کردی جائیں گی جو ملازمین کے اکاؤنٹس میں راست طور پر پہنچ جائیں گی۔ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی تعداد تقریباً 22ہے جن میں خطیب، امام، مؤذن اور دیگر ملازمین شامل ہیں۔ ان کے علاوہ مکہ مسجد میں سیکورٹی کی ڈیوٹی پر تعینات 20ہوم گارڈز کو بھی تین ماہ سے تنخواہوں کا انتظار ہے۔ بجٹ کی اجرائی کے بعد انہیں توقع تھی کہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار فوری ضروری اُمور کی تکمیل کرتے ہوئے ان کے معاشی مسائل کی یکسوئی کریں گے لیکن انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ مارچ کی تنخواہ کے سلسلہ میں بھی بلز داخل کردیئے گئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بجٹ کی اجرائی میں محکمہ فینانس کی کوتاہی ہے یا پھر محکمہ اقلیتی بہبود کے متعلقہ عہدیدار رقم حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ ملازمین نے سکریٹری اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود سے اس سلسلہ میں فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔