مولانا سید شاہ اسرار حسین رضوی‘ مفتی محمد فصیح الدین نظامی القادری کے خطابات
حیدرآباد ۔ 19ستمبر ( راست) جامع مسجد درگاہ امراللہ شاہؒ مغلپورہ میں محافل یاد حضرت سیدنا امام حسینؒ سے مولانا سید شاہ اسرار حسین رضوی المدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میںجو مرجاتے ہیں وہ مرتے نہیں بلکہ زندہ ہے ( قرآن) اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا پاتے ہیں وہ اپنی زندگی میں اپنی جان ‘ مال ‘ اولاد ہر چیز اللہ کی طرف قربان کردیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی خوشی میں ہی اپنی خوشی پاتے ہیں اور اللہ خود ان کو اپنا خاص محبوب بندہ بنا لیتا ہے ۔ مولانا نے کہا کہ امام حسینؓ نے حکم خداوندی اور اتباع رسولؐ میں اپنی ساری زندگی گزاری ‘ سرکار دو عالمؐ نے فرمایا جو شخص حسنؓ اور حسینؓ سے محبت رکھتا ہے ‘ میں بھی اس سے محبت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے دشمنی رکھتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے دشمنی رکھتا ہے ۔ مولانا نے کہا کہ سرکار دو عالمؐ نے فرمایا حسنؓ اور حسینؓ جنت کی خوشبو ہیں جو شخص ان سے محبت کرتا ہے اس کو جنت کی خوشبو نصیب ہوتی ہے ۔ مولانا نے خطاب میں بہترین روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ نبین ‘ صدیقین ‘ شہداء ‘ صالحین یہ اللہ تعالیٰ کے خاص انعام یافتہ بندے ہیں ‘ ان کی تعظیم و تکریم اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہمارے لئے نجات کا ذریعہ بنے گا ۔ مفتی شاہ محمد فصیح الدین نظامی نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ کی عبادت کا یہ حال تھا کہ فرض نمازوں کے علاوہ روزانہ دن اور رات ایک ہزار رکعت نوافل ادا فرماتے اور بکثرت سے روزے رکھا کرتے تھے ۔ امام حسینؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فخر اور تکبر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ہے ۔ مولانا شاہ محمد خالد رضوی نے کہا کہ امام حسینؓ اپنی زندگی صرف حق کے خاطر گزاری ان کے خیال میں نہ اولاد ‘ مال ‘ جان ‘ دولت ‘ عزت ‘ شہرت کو نہیں دیکھی ‘ صرف اور صرف وہ اپنے ایمان کی حفاظت کی ۔ مولانا سید شاہ لیاقت حسین رضوی نے کہا کہ علم سے انسان ہر چیز کی پہچان کرسکتاہے ‘ ورنہ وہ ہر کسی کی بھی قدر نہیں کرسکتا ہے ۔ عالم باعمل دماغ کی گندگی کو صاف کرتا ہے اورکامل رہبر قلب کو صاف کرتا ہے ۔ امام حسینؓ کا ذکردماغ بھی صاف کرتا ہے اور قلب کو بھی صاف کرتا ہے ۔ ہماری زندگیکے جینے کا مقصد اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس کے رسولؐ سے محبت اور اس کے محبوبین سے محبت ضروری ہے ۔ نظامت کے فرائض حافظ و قاری محمد منیر الدین شرفی القادری ‘ قرات کلام حافظ و قاری شیخ معین الدین آمری قادری نے کی ‘ نعت قاری غلام احمد نیازی ‘ قاریانور علی رضوی ‘ امیر علی نے سنائی ‘ جناب سلیم احمد ملتانی ‘ جناب سید فضل الحق رضوی نے سامعین کا شکریہ ادا کیا ۔