مولانا عبدالعزیز کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو مزاحمت کریں گے

اسلام آباد۔ 28؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ یہ بات صحت سے کہی جاسکتی ہے کہ کم از کم جہانگیر کے دور تک تیز رفتار انصاف دلانے کے لیے فوجی عدالتوں کا تصور نہیں تھا۔ اسی لیے جہانگیر کو محل کے باہر زنجیر لگا کر بڑی سی گھنٹی باندھنی پڑی۔ قریب ہی ہاتھیوں کا باڑہ بھی تھا تاکہ باغیوں اور قاتلوں کو فوراً کچلوایا جاسکے۔ ہمیں انصاف سے بھی تیز رفتار فوجی عدالتوں کا تصور کہیں میرتقی میر کے دورِ طوائف الملوکی میں جا کے ملتا ہے۔ ایک رہنما تو اسلام آباد میں نیشنل ایکشن پلان وضع کرنے والے کْل جماعتی اجلاس میں کہہ ہی چکے ہیں کہ امریکہ نے بھی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان امریکی فوجی عدالتوں نے جو سزائیں سنائیں وہ بھی ٹھیک ہیں تو پھر گوانتانامو قیدی کیمپ پر اتنا شور کاہے کو؟ اسرائیل کی فوجی عدالتیں پچھلے 20 برس میں ایک لاکھ بائیس ہزار سے زائد فلسطینیوں کو مختلف المیعاد سزائیں سنا چکی ہیں۔ اس پر اتنا واویلا کیوں؟ مصر میں پچھلے دو برس سے قائم خصوصی فوجی عدالتیں اتنے ملک دشمنوں کو سزائے موت سنا چکی ہیں جتنی سزائیں حسنی مبارک کی 20 سالہ آمریت میں بھی نہیں سنائی گئیں۔ یہ بھی کہیے ٹھیک ہے۔ چونکہ تیز رفتار فوجی عدالتوں کے سوا فوری انصاف کے حصول کا بظاہر کوئی موثر طریقہ نہیں لہٰذا سنہ 1857 میں انگریزوں نے ہندوستان میں جو فوجی عدالتیں لگائیں ان کے سزا یافتگان کو قومی ہیرو سمجھنے سے گریز کیجیے اور پھر سنہ 1919 میں جلیانوالہ باغ کے سانحے کے بعد لگنے والی مارشل لا عدالت کے قرار دیے گئے مجرموں کو بھی مجرم ہی سمجھیے۔ آپ کہیں گے کہ تم نو آبادیاتی دور میں جدوجہدِ آزادی دبانے کے لیے انگریزی فوجی عدالتوں کی گمراہ کن مثالوں سے ہمیں کیوں کنفیوز کررہے ہو۔

چلیے کنفیوز نہیں کرتے لیکن آپ کم از کم یہ تو مانیں گے کہ ایوب خان، یحییٰ خان اور ضیا الحق کی فوجی عدالتوں نے جو فیصلے کیے وہ ٹھیک تھے۔ تب ہی تو آپ نے سنہ 2014 میں بھی فوجی عدالتیں لگانے کا متفقہ فیصلہ کیا اور اس فیصلے میں دورِ ضیا کی فوجی عدالتوں کے مثالی انصاف سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والی پیپلز پارٹی بھی شامل ہے۔ دورِ ضیا میں ہی پیپلز پارٹی کے ایک روپوش کارکن نے مجھے یہ قصہ سنایا تھا کہ جب عدالت کے رو برو ملزم کے وکیل کی تقریرِ بے گناہی طول پکڑنے لگی تو صدر نشین کرنل صاحب نے پہلو بدلتے ہوئے کہا ’وکیل صاحب گل چھیتی چھیتی مکاؤ۔اسی سزا وی دینی اے‘۔ کہا یہ جا رہا ہے پاکستان کی فوجی عدالتیں صرف دہشت گردوں کو انصاف دیں گی۔ سیاسی کارکنوں کو کچھ نہیں ہوگا۔ (ہائے میرے سادو، میں تمہارے قربان)۔ سوال یہ ہے کہ جس ناقص انٹیلیجنس نظام اور پولیس تفتیش کی ناکامی سے تنگ آ کر فوجی عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں ان کی آنکھیں، ناک اور کان بھی تو یہی ناقص انٹیلیجنس نظام اور پولیس ہوگی۔ (اگر مریخ سے تفتیش کار لائے جا رہے ہیں تو اور بات ہے)۔ عدالتیں فوجی اور تفتیشی نظام وہی فرسودہ۔گویا یوں ہے جیسے آپ نیا کرتا پہننے کی خوشی میں نیا پاجامہ پہننا بھول جائیں۔