مولانا احمد بخاری کے فرزند جامع مسجد دہلی کے نائب امام

نئی دہلی ۔ 22 ۔ نومبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : جامع مسجد کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے 19 سالہ فرزند شعبان بخاری کو آج منعقدہ تقریب دستار بندی میں نائب امام مقرر کیا ہے ۔ اس مسئلہ پر ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا اور ہائی کورٹ نے یہ حکم دیا کہ تقریب دستار بندی کوئی قانونی جواز نہیں رکھتی ۔ آج منعقدہ اس تقریب میں مولانا سید احمد بخاری نے کہا کہ شعبان بخاری جامع مسجد کے نائب امام ہوں گے ۔ انہیں توقع ہے کہ وہ عوام کی امیدوں پر پورے اتریں گے ۔ اس تقریب میں کئی مذہبی رہنما شریک تھے لیکن کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کے کسی لیڈر نے شرکت نہیں کی ۔ تقریب دستار بندی بعد نماز مغرب منعقد ہوئی ۔ شرکاء میں دیگر ممالک جیسے سعودی عرب ، ایران اور مصر کے مسلم رہنما و مذہبی شخصیتیں شامل ہیں ۔ شعبان بخاری امیٹی یونیورسٹی سے سوشیل ورک میں بیچلرس ڈگری کررہے ہیں ۔ مولانا سید احمد بخاری نے اس تقریب میں جہاں کئی سیاسی قائدین بشمول وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کو مدعو کیا وہیں وزیر اعظم نریندر مودی کو دعوت نہیں دی تھی ۔ دہلی ہائی کورٹ نے کل کہا تھا کہ شعبان بخاری کو نائب امام مقرر کرنے کے لیے منعقد کی جانے والی تقریب دستار بندی کا مطلب تقرر نہیں اور اس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے ۔ عدالت نے یہ بات بھی نوٹ کی کہ وقف ایکٹ کے تحت اوقافی جائیداد کے متولی کی گنجائش فراہم ہے اور اوقافی جائیدادوں یہاں تک کہ مسجد کے ائمہ کے تقرر کی کوئی گنجائش نہیں ۔۔