مودی ’بھائی ‘ کی طرح ہیں :اباٹ

ملبورن ۔ 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم آسٹریلیا ٹونی اباٹ نے آج ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی کو ’بھائی‘ کی طرح قرار دیا۔ انہوں نے کینبرا میں چوٹی مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں اتنا کہا کہ ’نریندر اور مَیں‘۔ اس کے بعد 161 سال قدیم ملبورن کرکٹ گراؤنڈ پر اباٹ نے مودی کے ساتھ اسی طرح کی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ مودی ’’بھائی‘‘ کی طرح ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران دونوں قائدین کے مذاکرات اور مل کر کام کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے اباٹ کئی مرتبہ ’نریندر اور مَیں‘ کہتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم ناموں سے مخاطب کریں گے تو ایک خوشگوار پہلو سامنے آئے گا اور جو کچھ عدم اتفاق ہو، اسے یہ گرمجوشی دور کرنے میں معاون ہوگی۔ اسی طرح مودی کے آسٹریلیائی پارلیمنٹ سے خطاب شروع کرنے سے قبل اباٹ نے کہا کہ وہ ایک ایسی صورتحال کو صحیح کرنے جارہے ہیں جو اب تک نہیں ہوسکی یعنی ہندوستان کا کوئی وزیراعظم پہلی مرتبہ آسٹریلیائی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک کے قائدین نے پارلیمنٹ سے خطاب کیا لیکن اب تک کسی ہندوستانی لیڈر کو یہ موقع نہیں مل سکا۔ وہ خوشی محسوس کررہے ہیں ۔ مودی اور اباٹ کی رسمی اور غیررسمی کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ نریندر مودی نے ملبورن کرکٹ گراؤنڈ پر خطاب کے دوران کہا کہ میرا آسٹریلیا کا یادگار دورہ آج ختم ہوا۔ نئے روابط کا آغاز ہوا۔ آسٹریلیا کے چار روزہ دورہ کے اختتام پر مودی نے آسٹریلیا کو ایک مومنٹو پیش کیا جس پر کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والے ہندوستانی کپتانوں اور خود انکے دستخط ہیں۔ قبل ازیں مودی نے دہشت گردی سے مقابلے کیلئے جامع عالمی لائحہ عمل کی ضرورت پر زور دیا جس میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو یکا و تنہا کیا جاسکے۔

وزیر اعظم مودی کی فجی میں آمد
سووا 18 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نریندر مودی اپنے اولین دورہ فجی پر آج رات پہونچے ۔ وہ ایک دن کا دورہ کرینگے ۔ کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا فجی کا یہ گذشتہ 33 برسوں میں پہلا دورہ ہوگا ۔ وہ فجی کے وزیراعظم فرینک بینی مارما کے ساتھ تبادلہ خیال کرینگے ۔ مودی ملبورن سے ایک خصوصی ائر فورس طیارہ میں فجی پہونچے ۔ یہ ان کے سہ قومی دورہ کا آخری مرحلہ ہے ۔ جاریہ ہفتے کے اوائل میں مودی نے میانمار کا دورہ کرتے ہوئے مشرق ایشیا اور آسیان چوٹی کانفرنسوں میں شرکت کی تھی ۔ اپنے دورہ کے موقع پر مودی وزیر اعظم فجی سے باہمی بات چیت کے علاوہ یہاں کی پارلیمنٹ سے بھی خطاب کرینگے اور کچھ دوسرے ممالک کے دورہ کنندہ قائدین سے ملاقاتیں بھی کرینگے ۔