مودی ۔ شریف ملاقات ‘ ایک دن انتظار کیجئے ‘ سشما

کٹھمنڈو 24 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان نے نیپال میں سارک چوٹی کانفرنس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کی پاکستان کے ہم منصب نواز شریف سے ملاقات کا امکان مسترد نہیں کیا ہے اور وزیر خارجہ سشما سواراج نے آج کہا کہ اس سلسلہ میں کل تک انتظار کیا جائے ۔ کٹھمنڈو پہونچنے کے فوری بعد سشما سواراج سے سوال کیا گیا تھا کہ آیا مودی اور نواز شریف کی ملاقات ہوگی ‘ جس پر انہوں نے کہا کہ کل تک انتظار کیا جائے ۔ پاکستان کے قومی سلامتی و خارجی امور کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا کہ دونوں قائدین کے مابین اس طرح کی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔ سرتاج عزیز نے تاہم کہا کہ اگر ہندوستان اس ملاقات کی کوئی تجویز پیش کرتا ہے تو پاکستان اس پر غور کرنے تیار ہے ۔ سرتاج عزیز سے جب دونوں قائدین کی ملاقات کے امکان پر سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ابھی تک ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا وہ سمجھتے ہیں کہ ایسی ملاقات ہوسکتی ہے سرتاج عزیز نے کہا کہ اگر ہندوستان ایسی تجویز پیش کرے تو ممکن ہے ۔ دونوں ہی ملکوں کے ذمہ داروں سے آنے والے بیانات میں یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ مودی ۔ شریف ملاقات ہوگی ۔ دونوں قائدین کٹھمنڈو میں سارک چوٹی کانفرنس میں شرکت کیلئے یہاں پہونچنے والے ہیں جس میںہند ۔ پاک مسائل پر خاص توجہ دی جا رہی ہے ۔ کئی بیرونی سفارتکاروں نے ان اندیشوں کا اظہار کیا ہے کہ ہند ۔ پاک مسائل اس چوٹی کانفرنس میں موضوع بحث رہیں گے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ افسوسناک ہوگا ۔ نواز شریف کی باہمی ملاقاتوں کے تعلق سے سوال پر سرتاج عزیز نے کہا کہ ایک یا دو ملاقاتیں طئے ہیں مابقی کچھ طئے نہیں ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا وہ خود ( سرتاج عزیز ) سشما سواراج سے ملاقات کرینگے انہوں نے کہا کہ اگر سشما ایسی خواہش رکھتی ہیں تو ملاقات کرینگے تاہم ابھی تک ہندوستان نے ایسی کسی ملاقات کی خواہش ظاہر نہیں کی ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا سارک چوٹی کانفرنس میں ہند ۔ پاک مسائل کا غلبہ رہے گا انہوں نے کہا کہ انہیں ایسی امید نہیں ہے ۔ ان کے خیال میں سارک اہمیت کا حامل ہے اور اسے زیادہ موثر رول ادا کرنا چاہئے ۔ سشما سواراج نے بھی سارک چوٹی کانفرنس کی کامیابی کا یقین ظاہر کیا اور کہا کہ وہ بہت زیادہ امیدوں کے ساتھ کٹھمنڈو آئی ہیں۔